خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 816 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 816

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۱۶ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء کون ہمیں اس طرف لے جا رہا ہے بہر حال کوئی ہمیں اس طرف لیجانے والا تھا اور وہ ہمیں اس ٹیلہ کے اوپر لے گیا جہاں ایک کا وچ بچھا ہوا ہے۔اور اس نے مجھے اور منصورہ بیگم کو کہا کہ آپ یہاں بیٹھیں۔وہاں کئی سو آدمی موجود ہیں جو ان کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں جو گھاس کے تختوں پر بچھی ہوئی ہیں۔اس وقت تک کہ ہم اس کا وچ یعنی صوفہ سیٹ کے اوپر بیٹھیں۔ہمیں پیچھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔سامنے ہی نظر آرہا تھا۔لیکن جب ہم وہاں بیٹھے ( بائیں طرف منصورہ بیگم ہیں اور دائیں طرف میں ہوں ) اور منہ اوپر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس قلعے کی دیوار کے اندر کا حصہ جو ہمارے سامنے تھا۔ایسی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ کوئی انسانی ہاتھ ایسی خوبصورتی پیدا نہیں کر سکتا اور نہ کسی انسان کے تصور میں وہ چیز آسکتی ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ اپنی کسی خاص مشیت کے ماتحت اسے وہ خوبصورتی نہ دکھائے اور جتنا بڑا دروازہ اور ڈیوڑھی اس قلعہ کی تھی۔اسی نسبت سے وہ دیوار تھی۔یعنی کئی سو گز ، نصف اس کے دائیں طرف اور نصف بائیں طرف ہمارے آگے اور جہاں وہ دیوار ختم ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ( قلعے مستطیل ہوتے ہیں ) ایک ایک کمرہ دونوں طرف کا مجھے نظر آیا تھا۔اس کے علاوہ میں نے اسکا کچھ نہیں دیکھا اور ان کمروں کی دیوار میں بھی اسی خوبصورتی سے سجائی گئی ہیں اور یہ قلعہ دو منزلہ تھا جس ڈیوڑھی میں سے ہم گزر کے آئے ہیں وہ دومنزلہ عمارت سے او پر نکل جاتی تھی اور جیسا کہ قلعوں کے اندر عام طور پر گنبد ہوتے ہیں۔اس کے دونوں کناروں پر گنبد تھے اور وہ سارا حصہ جس پر ہماری نظر پڑتی تھی نہایت خوبصورتی سے سجا یا گیا تھا۔کوئی بلب یا ٹیوب ہمیں نظر نہیں آتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قلعے کی دیوار کے ہر ذرہ سے روشنی چھن کے باہر آرہی ہے اور وہ روشنی مختلف رنگوں کی تھی یعنی سرخ زرد۔سبز اور گلابی وغیرہ۔میں ان رنگوں کو گن نہیں سکا۔بہر حال وہ مختلف رنگ تھے اور ان کے ملنے سے نہایت ہی خوبصورت منظر بنتا تھا اتنا خوبصورت کہ میں اپنی پوری توجہ کیسا تھ اس حسن میں کھویا گیا اور ایک لمبا عرصہ میں خود فراموشی کے عالم میں الہی حسن کے اس حسین منظر میں گم رہا۔پھر کچھ عرصہ بعد میں نے اس حسن کی تفصیل پر غور کرنا شروع کیا۔جس جگہ یہ کا وچ تھا وہ دوسری منزل کی چھت کے عین سامنے اس سے ذرا نیچے تھا۔یعنی ہمارے سامنے دوسری منزل کی چھت کے نیچے وہ جگہ آتی