خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 817
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۱۷ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء تھی۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ڈیوڑھی کی چھت دو منزلوں سے بھی اوپر تیسری منزل تک چلی گئی تھی۔جب میں نے تفصیلی غور کرنا شروع کیا تو میری پہلی تفصیلی توجہ ڈیوڑھی کے اس حصہ پر پڑی جو دوسری منزل کی چھت کے اوپر نکلا ہوا تھا اور کافی غور کرنے کے بعد میں نے یہ دیکھا کہ قریباً ۵۵ - ۶۰ فٹ چوڑی ڈیوڑھی کے اوپر نہایت خوبصورت رنگوں سے لکھا ہوا یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا میرے سامنے نمودار ہوا الیس اللهُ بِكَافٍ عبده اسے دیکھ کر میرے اندر عَبْدَهُ ایک عجیب روحانی کیفیت پیدا ہوئی۔پھر میں نے اس حسین اور منور دیوار پر اور زیادہ تفصیلی غور کرنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ جو سبز رنگ کے قطعے دیوار کے اوپر مجھے چار لائنوں میں نظر آتے ہیں اور نظر کو وہ ایک چوکھٹہ سا معلوم ہوتا ہے۔وہ محض خوبصورتی کے لئے ہی نہیں بلکہ وہ اشعار ہیں اور ساری دیوار کے اوپر سبز رنگ میں لکھے ہوئے ہیں۔کہیں وہ شعر (پورا قطعہ ) مربع بناتے ہیں اور کہیں ایک شعر ( دو مصرعے ) ایک مستطیل بنارہے ہیں اور ان کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ ساری دیوار کے اوپر سجایا گیا ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ میرا سہرا ہے اور مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے ان لوگوں نے بتایا ہی نہیں تھا اور میری شادی کا انتظام کر دیا ہے۔اور میرا سہرا یہاں اس خوبصورتی کیساتھ لکھ دیا ہے۔پھر میں نے اس سجاوٹ پر اور غور کیا تو میں نے یہ دیکھا کہ ساری دیوار کے اوپر وہ سارے پھول اور اشعار اور الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدہ جو نظر آتے تھے وہ خشک میووں بادام اور پستہ وغیرہ سے بنائے گئے ہیں۔اور ان کو اس طرح سجایا گیا ہے کہ شکلیں الفاظ کی نظر آرہی ہیں اور ان کے نیچے سے روشنی چھن کے آرہی ہے۔سوائے ہر دو برج کی دیواروں کے جن کی سجاوٹ کیلوں (پھل) سے کی گئی تھی۔پھر میں نے ان اشعار میں سے ایک شعر پڑھا لیکن بیدار ہونے کے بعد وہ مجھے یاد نہیں رہا۔پھر میں نے دائیں طرف دیکھا۔وہ دو منزلہ کمرہ جو ایک ہی کمرہ دائیں بازو کا مجھے نظر آرہا تھا اور سجا ہوا تھا اس کی دوسری منزل اتنی بڑی تھی جتنی یہ ہماری چھت ہے۔اس کی پوری دیوار پر ایک کم عمر لڑکی کی تصویر ہے اور جب میں نے اس کو غور سے دیکھنا شروع کیا تو وہ مجھے ایک شبیہ نظر آئی جس کے سر پر دوپٹہ تھا اور سر آگے جھکا ہوا تھا۔جیسا کہ وہ کوئی مسلمان لڑکی ہو