خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 763
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۶۳ خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء بھی ہے اور گرمی بھی بہت ہے۔لیکن میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو اے میری محترم بہنو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اشتہار پڑھ کر سناؤں ایک ایسا اشتہار جو حضور نے ۱۸۸۵ء میں دیا تھا اس کے بعض حصے میں سنانا چاہتا ہوں آپ غور سے سنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اشتہار بغرض تبلیغ و انذار چونکہ قرآن شریف و احادیث صحیحہ نبویہ سے ظاہر وثابت ہے کہ ہر یک شخص اپنے کنبہ کی عورتوں وغیرہ کی نسبت جن پر کسی قدر اختیار رکھتا ہے سوال کیا جائے گا کہ آیا بے راہ چلنے کی حالت میں اس نے ان کو سمجھایا اور راہ راست کی ہدایت کی یا نہیں۔اس لئے میں نے قیامت کی باز پرس سے ڈر کر مناسب سمجھا کہ ان مستورات و دیگر متعلقین کو ( جو ہمارے رشتہ داروا قارب و واسطہ دار ہیں) ان کی بے راہیوں و بدعتوں پر بذریعہ اشتہار کے انہیں خبر دار کروں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے، گلے کا ہار ہو رہی ہیں اور اُن بری رسموں اور خلاف شرع کاموں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے۔ہر چند سمجھایا گیا، کچھ سنتے نہیں ہر چند ڈرایا گیا، کچھ ڈرتے نہیں اب چونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں اس لئے ہم نے ان لوگوں کے بُرا ماننے اور بُرا کہنے اور ستانے اور دکھ دینے سے بالکل لا پروا ہو کر محض ہمدردی کی راہ سے حق نصیحت پورا کرنے کے لئے بذریعہ اس اشتہار کے ان سب کو اور دوسری مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو خبر دار کرنا چاہا تا ہماری گردن پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے اور قیامت کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا اور سیدھا راہ نہیں بتایا۔سو آج ہم کھول کر بآواز بلند کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے