خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 764
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۶۴ خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء اور جو کچھ اللہ جلشانہ، نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی ہے اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیر میں نہ دائیں اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں اور اس کے برخلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں۔لیکن ہمارے گھروں میں جو بدر سمیں پڑ گئی ہیں اگر چہ وہ بہت ہیں مگر چند موٹی موٹی رسمیں بیان کی جاتی ہیں تانیک بخت عورتیں خدا تعالیٰ سے ڈر کر ان کو چھوڑ دیں اور وہ یہ ہیں :۔(1) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات منہ پر لانا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں۔جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں پکڑ لیں کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کہیں یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہوتو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ ہے وہ شیطان سے ہے۔(۲) دوم برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور با ہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلا کر رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب نا پاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پر ہیز کرنا چاہیے۔(۳) سوم سیا پا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں حرام خور عورتیں شیطان کی بہنیں جو دُور دُور سے سیا پا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکر اور فریب سے منہ کو ڈھانک کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیچنیں مار کر روتی ہیں ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتانے کے لئے صد اروپیہ کا پلاؤ اور زردہ پکا کر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اس غرض سے کہ تالوگ