خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 662 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 662

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۶۲ خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء قائم کرتا ہے مثلاً تعلیم کے میدان میں دیکھو اسلام علم سیکھنے پر بہت زور دے رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا جتنا علم کوئی سیکھ سکے جتنی جتنی کسی کے اندر صلاحیت اور استعداد ہو اس کو علم سکھانا چاہیے اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کوئی تھرڈ کلاس لڑکا جو رعایتی پاس ہونے والا ہو اس کو وظیفہ نہیں دینا چاہیے کیونکہ وہ ضیاع ہے۔لیکن جو ہو شیار طالب علم ہے اس کے دماغ کو ضائع کرنا اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور قوم کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے غرض اسلام نے انسان انسان میں مساوات کو اور اس کے بعد اخوت کو قائم کر دیا ہے۔اس نے دل کے سارے کینوں اور بغضوں کو نکال کر باہر پھینک دیا ہے اور اس نے کہا ہے تم بھائی بھائی کی طرح ایک دوسرے سے پیار کرو اور پھرا اپنی بنیادی تعلیم کو تین بڑے ستونوں پر قائم کیا ہے اور وہ تین ستون عدل ، احسان اور ایتاء ذی القربی ہیں۔ہر وہ قوم جو بین الاقوامی حیثیت کی مالک ہو یا وہ رشتے اور تعلقات جو بین الاقوامی ہوں وہ اگر عدل کے اصول پر قائم ہوں اور اس سے بڑھ کر احسان کے اصول پر قائم ہوں اور پھر اس سے بھی بڑھ کر ایتاء ذی القربی کے اصول پر قائم ہوں تو آج دنیا کے سارے فسادات مٹ جاتے ہیں اور دنیا ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے لگتی ہے بجائے اس کے کہ وہ یہ سوچتی رہے کہ ہم دوسروں کو کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ بنیادی حکم دے کر ہمیں بتایا ہے کہ تم میں سے بعض طبائع عدل سے آگے نکل سکیں گی۔انہیں ہم کہتے ہیں کہ تم عدل کے مقام کو چھوڑ کر نیچے نہ گر ناور نہ تم مسلمان نہیں رہوں گے۔بعض طبائع ایسی ہوں گی جو عدل کے مقام سے او پر پرواز کریں گی اور احسان کے مقام پر پہنچ جائیں گی لیکن اس سے آگے نہیں جاسکیں گی ان کو ہم کہتے ہیں کہ اگر تم نے احسان کے مقام کو چھوڑ دیا اور باوجودا پنی استعداد کے تم گر کر عدل کے مقام پر آگئے تو یادرکھوتم اللہ تعالیٰ کی بہت سی ایسی نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے کہ جنہیں تم اس مقام پر قائم رہتے ہوئے حاصل کر سکتے تھے اور یہ کوئی معمولی خسران نہیں ہے بلکہ یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔پھر تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جوان ہر دو مقام سے اوپر ہوکر ایتا ء ذی القربی کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں اور پہنچ سکتے ہیں۔ان کو ہم کہتے ہیں کہ تم احسان کے مقام پر راضی نہ ہو جانا ورنہ تم خدا تعالیٰ کی بے نظیر اور بے مثال نعمتوں اور فضلوں اور برکتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔غرض اسلام