خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 519 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 519

خطبات ناصر جلد اول ۵۱۹ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء اور کوئی شخص مجھے برا سمجھے گا بُرا بھلا کہے گا۔اگر کوئی کچھ کہتا تو میں خیال کرتا کہ کہتا ر ہے میں تو اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔اور ایسی بھی مثالیں ہیں کہ چار مہینے یا پانچ مہینے یا چھ مہینے فائل بنتا رہا اور جس وقت وہ فائل مکمل ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ اس شخص نے مجھ سے اب ضرور سز ا لینی ہے اور پھر میں نے اسے سمجھانے کے لئے بلایا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ خدام الاحمدیہ کا باغی نہیں ہے بلکہ اپنے باپ کا باغی ہے، نفسیاتی الجھنوں کا بیمار ہے اور پھر سارا فائل دھرا کا دھرا رہ گیا اور مجھے اسے کہنا پڑا کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہوا اور ضرورت ہو تو میرے پاس آؤ میں تمہارا باپ ہوں تمہارے کام آؤں گا۔خدا کے فضل سے اس طرح ایک آدھ گھنٹے کے اندر بڑا اچھا خادم بن کر میرے پاس سے واپس گیا۔اور اس کے بعد اس کی اس قسم کی کوئی شکایت میرے پاس نہیں آئی۔پس جب یہ ایک ایسا نظام ہے کہ ذیلی تنظیمیں ہوں یا بنیادی سب کی سب خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں تو تصادم کا کوئی خطرہ نہیں عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ پیار سے کام لیں۔اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔پھر چونکہ ہماری جماعت قرآن کریم کے احکام کی پابند ہے۔اس لئے جب خدا یا رسول یا تمہارا امیر کوئی فیصلہ کرے تو کوئی بات اپنے دل میں نہ لایا کرو چاہے تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔مثلاً ابھی جو زمین کے غلط سودے کے متعلق میں نے مثال دی ہے ہمارے اس بھائی کے دماغ میں یہ بات نہ آئی ہوگی کہ وہ مکان جس پر اس نے چار سو روپیہ خرچ کیا تھا اس سے ہمارا کیا تعلق ہے؟ مجھے یقین ہے کہ پہلے یہ بات انہیں سمجھ نہیں آئی تھی لیکن یہ بات انہیں ضرور سمجھ آ رہی تھی کہ فیصلہ میری سمجھ میں آئے یا نہ آئے میں اسے ضرور مانوں گا اور یہ ایسی چیز ہے کہ جب کسی جماعت میں پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اسے مٹا سکے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشاعت قرآن کے سلسلہ میں اور توحید خالص کے قیام کے سلسلہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے سلسلہ میں خدام الاحمدیہ کو جو یہ فرمایا کہ جو قوم ایک ہاتھ کے اُٹھنے سے اُٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ایک ہاتھ کے نیچے اشارہ کرنے سے بیٹھ جاتی ہے وہ اپنے اندر