خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 520
خطبات ناصر جلد اول ۵۲۰ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء بڑی طاقت رکھتی ہے اسے مٹانا آسان کام نہیں ، وہ بالکل حق ہے۔وہ ہاتھ صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا ہاتھ نہیں ، وہ ہاتھ مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھا ، وہ ہاتھ خلیفہ وقت کا ہاتھ ہے اور یہ اس کا کام ہے۔پس جدھر وہ اشاعت اسلام کی مہم میں اور استحکام اسلام کے لئے جماعت کو لے جانا چاہے ہم سب نے آنکھیں بند کر کے (سمجھ آئے یا نہ آئے ) اس کی اطاعت کرنی ہے اور اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اس میں بہت برکت ہے کئی آدمی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ جی! بڑے چندے ہو گئے ہیں۔تحریک جدید کا، وقف جدید کا، خدام الاحمدیہ کا ، ناصرات کا، مساجد کا لیکن وہ یہ چندے دے بھی رہے ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ دے نہیں رہے ہوتے لیکن بعض دفعہ ایسی بات بھی کہہ دیتے ہیں ایک دفعہ حضرت مصلح موعود ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے فرمایا تھا اور بات وہی سچ ہے کہ الہی سلسلوں اور خدا تعالیٰ کی مقرب جماعتوں کی قربانی کے معیار کو بڑہاتے رہنا چاہیے ورنہ اس میں تنزل شروع ہو جاتا ہے اسی واسطے وقفہ وقفہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی نہ کوئی نئی سکیم جاری کرتے رہتے تھے اور وہ لوگ جنہوں نے اس زمانہ میں مثلاً ایک چونی دی تھی انہوں نے ابدی زندگی حاصل کر لی کیونکہ آپ نے ان کا نام اپنی کتب میں لکھ دیا۔جب آہستہ آہستہ ان کی تربیت ہو چکی تو وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنی ساری دولت احمدیت اور اسلام کے لئے لٹا دی اور اس پر فخر کیا اس بات پر فخر نہیں کیا کہ انہوں نے مال خدا کی راہ میں دیا بلکہ اس بات پر فخر کیا کہ خدا اور اس کے رسول نے ان کے مال کو قبول کیا۔دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے !!! اس فخر سے تکبر پیدا نہیں ہوتا بلکہ عاجزی پیدا ہوتی ہے ہمیں خوف رہتا ہے کہ پتہ نہیں خدا تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول کرے گا یا نہیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔کسی کو کیا معلوم کہ وہ نمازیں قبول ہوتی ہیں کہ نہیں پس نماز پڑھنا کافی نہیں۔ہماری نجات کے لئے نماز کا قبول ہونا ضروری ہے اور قبولیت کا ہمیں پتہ نہیں ہوتا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزار و تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خلیفہ وقت کا ایک اہم فرض یہ ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ جماعت اعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللهِ “ کے مقام سے نیچے نہ گرے اور اسی غرض کے لئے یہ مختلف تنظیمیں قائم کی گئی ہیں اور ہر ایک تنظیم کو