خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 518

خطبات ناصر جلد اول ۵۱۸ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء سے گالی دے رہا ہو اور آپ کے کان تک وہ آواز پہنچے تو آپ کو یہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ گالی آپ کو دی جا رہی ہے یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اگر کوئی برا بھلا کہتا ہے تو غلطی کرتا ہے آپ یہی سمجھیں کہ وہ آپ کو نہیں کہہ رہا بلکہ کسی اور کو کہ رہا ہے۔آپ اپنا کام کئے جائیں اور یا درکھیں کہ نظام کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ پورا تعاون اور اتفاق ہونا چاہیے خدام الاحمدیہ کی طاقت، انصار اللہ کی طاقت ، لجنہ اماء اللہ کی طاقت، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال کی طاقت اس بات میں ہے کہ جو حدود خلیفہ وقت نے ان کے لئے مقرر کی ہیں وہ ان سے باہر نہ جائیں اور جس وقت دوسری تنظیموں کو ان کے تعاون کی ضرورت ہو بحیثیت تنظیم بھی وہ اتنا تعاون کریں کہ دنیا میں اس کی مثال نہ ملتی ہو۔اگر یہ حالات ہوں، یہ صورت ہو، تو ان حالات میں ہر تنظیم بشاشت کے ساتھ اپنے کاموں میں لگی ہوئی ہوگی۔اس کو یہ پتہ ہوگا کہ اپنے دائرہ کے اندر رہا تو ہر دوسری تنظیم میری مددکو آئے گی اور اگر میں نے اپنے دائرہ سے باہر قدم رکھا تو اوپر سے تنبیہ ہو جائے گی اور جس کو یہ پتہ ہو وہ اپنے دائرہ عمل سے باہر نہیں جاسکتا۔میں نے بڑا لمبا عرصہ خدام الاحمدیہ کی صدارت کی ہے اور اس عرصہ میں میری بیبیوں شکایتیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچیں اور بیسیوں دفعہ مجھ سے جواب طلبی بھی ہوئی۔مگر کبھی بھی میرے خلاف فیصلہ نہیں ہوا اور جب میں سوچتا ہوں تو خدام الاحمدیہ کے زمانہ صدارت کی یہی ایک چیز ہے جو مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی۔بعض باتوں میں غفلت کی ہوگی اتنا کام نہ کر سکا ہوں گا جتنا کرنا چاہیے تھا مگر یہ ایک چیز ہے کہ جب میں سوچتا ہوں تو میرا دل اس کی وجہ سے خوشی سے بھر جاتا ہے کہ میرے خلاف کبھی فیصلہ نہیں ہوا۔کیونکہ میں نے کبھی کسی کے خلاف جلد بازی سے کام نہیں لیا۔جس کے خلاف میں ایکشن لیتا تھا کم از کم تین اور چھ مہینے کے درمیان اس کے متعلق تحقیقات کراتا۔پہلے زعیم کو کہتا کہ اس کی اصلاح کرو پھر قائد کو کہتا کہ اس شخص کی اصلاح کی کوشش کرو وغیرہ۔اس طرح اس کے فائل بنتے چلے جاتے۔دو مہینے بعد ، تین مہینے بعد ، چار مہینے بعد ، پانچ مہینے بعد ، پھر میں اسے بلا تا اور پیار سے سمجھا تا۔اگر پھر بھی اس کی اصلاح نہ ہوتی تو اپنی ڈیوٹی اور اپنے فرض کو ادا کرتا۔بغیر یہ سوچے کے کہ یہ شخص یا