خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 513

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۱۳ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء بے شک یہ بچہ ہے مگر میں تو بچہ نہیں ہوں۔میں اپنی قدرت اس کے ذریعہ سے ظاہر کروں گا۔تب وہ قدرت ثانیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور پھر وہی بچہ ان لوگوں کا منہ بند کر دیتا ہے جو اسے بچہ سمجھنے والے اور بچہ کہنے والے ہوتے ہیں۔کبھی وہ کسی ایسے ادھیڑ عمر انسان کو چن لیتا ہے جسے دنیا اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق قطعاً نا اہل سمجھتی ہے، کم علم مبجھتی ہے، وہ بجھتی ہے کہ یہ کام اس کے بس کا ہے ہی نہیں اور حقیقت بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ کام اس کے بس کا نہیں ہوتا۔لیکن کون سا کام ہے جو خدا تعالیٰ کے بس کا نہ ہو۔پس خدا تعالیٰ اسے چنتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے نفس کو اپنی عظمت اور جلال کے جلوہ ساتھ کلی طور پر فنا کر دیتا ہے۔ایسے لوگوں پر کبھی ایسی حالت بھی وارد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار میں کبھی وہ اس طرح بھی محو اور گم ہو جاتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ساری دنیا میں منادی کر دیں کہ مجھے تم میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے اور پھر خدا تعالیٰ ان سے جو اور جس قدر کام لینا چاہتا ہے اسی قدر ان کی مدد اور نصرت بھی کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح وہ دنیا پر ثابت کرتا ہے کہ خدا ہی حقیقتاً سب قدرتوں والا اور سب طاقتوں والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام خلیفہ وقت کے سپرد کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑا اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں کہ قوم "اعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللهِ “ کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار رہی ہے کہ نہیں۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ محض اپنی نعمت کے طور پر اور اپنے فضل اور برکت کے نتیجہ میں ان کے درمیان مودت اور اُلفت پیدا کرتا اور انہیں بنیان مرصوص بنا دیتا ہے۔اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے خلفاء امت محمدیہ نے مختلف تدابیر اختیار کیں ہمارے زمانہ میں ہمارے سلسلہ میں ایک تدبیر اس کے لئے یہ اختیار کی گئی ہے کہ مختلف نظام قائم کر دئے گئے ہیں۔ایک جماعتی نظام ہے جو سلسلہ کے تمام بنیادی کاموں پر حاوی ہے اور ان کو کما حقہ ادا کرنے کی اس پر ذمہ داری ہے۔ایک تحریک جدید کا نظام ہے جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس لئے جاری کیا تھا کہ غیر ممالک میں اسلام کی اشاعت کی جائے اور توحید کا جھنڈا گاڑا جائے۔