خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 514
خطبات ناصر جلد اول ۵۱۴ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء ایک وقف جدید کی تنظیم ہے کہ جس کے سپر داشاعت قرآن اور تربیت سلسلہ کا ایک محدود دائرہ کے اندر کچھ کام کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ ذیلی تنظیمیں ہیں۔انصار اللہ ہے۔لجنہ اماءاللہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے، ناصرات احمد یہ ہے، اطفال احمد یہ ہے اور بعض دفعہ وقتی طور پر ہم کچھ کام کرتے ہیں یا ایسی کوئی تدبیر کرتے ہیں کہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ وقتی ہے یا مستقل شکل اختیار کر جائے گی۔مثلاً وقف عارضی کا نظام میں نے جاری کیا ہے اس کے نتائج خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے نکل رہے ہیں لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تحریک کیا رنگ اختیار کرے گی۔جس رنگ میں اور جس طور پر اللہ تعالیٰ کا منشا ہوگا اور اس کی ہدایت ہوگی اس کے مطابق ہی وہ شکل اختیار کر لے گی۔لیکن اس وقت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔بہر حال یہ مختلف تدابیر اور ذرائع ہیں تا جماعت کو اعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے مقام سے ہٹنے نہ دیا جائے اور یہ تمام تنظیمیں خواہ وہ بنیادی ہوں یا ذیلی ہوں خلیفہ وقت کے اعضاء ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی کمزور نہیں کیا جا سکتا نہ عقلاً نہ شرعاً۔عقل بھی اس کی اجازت نہیں دیتی اور شریعت بھی اس کو برداشت نہیں کرتی کہ وہ ذرائع جو خلیفہ وقت کی طرف سے جاری کئے گئے ہوں ان میں کسی کو کمزور کر دیا جائے اور ہر تنظیم میں سب سے زیادہ طاقت اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی حدود کے اندر کام کر رہی ہو اگر آپ ایک گز کپڑالیں اور سوا گز جگہ میں اس کو بچھانا چاہیں اور دو آدمی زور لگا کر اسے پھیلائیں تو وہ تار تار ہو جائے گا اور اپنی افادیت کھو دے گا۔تو ہر ذیلی تنظیم کا جہاں اپنے حدود کے اندر ہنا ضروری ہے وہاں دوسری تنظیموں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس میں کسی قسم کی کمزوری نہ پیدا ہونے دیں۔دراصل کسی تنظیم کا بھی کسی دوسری تنظیم کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔سارے تعلق خلافت کے ذریعہ اوپر سے ہو کر نیچے کی طرف آتے ہیں اور جب خلیفہ وقت سارے کاموں کی نگرانی کر رہا ہے تو جماعت کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ مثلاً خدام الاحمدیہ والے ان کے کام میں دخل دیں گے اور فتنہ پیدا کریں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو محض اپنے فضل کے ساتھ اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے مقام پر