خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 512
خطبات ناصر جلد اول ۵۱۲ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء ہے کہ خلافت کے قائم ہونے پر اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کیا تھا پھر اس کی آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اپنے عہد کو سمجھنے لگتے ہیں اور یادرکھتے ہیں اور اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کرنے والے بن جاتے ہیں اور جب ان کو خدا کا پیارمل جاتا ہے تو اگر دنیا کی ساری دولتیں اس کے عوض میں قربان ہو جائیں تب بھی وہ نہیں چاہتے کہ وہ پیار ان سے کھو جائے اور خدا ان سے ایک سیکنڈ یا لمحہ کے لئے بھی ناراض ہو۔پھر وَلَيُبَتِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا مِیں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے جو وَ كُنتُم عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا مِیں بیان ہوا ہے تو جس خوف کا آیت استخلاف میں ذکر ہے وہ وہی خوف ہے جس کو یہاں یوں بیان کیا کہ ایک گڑھا ہے، آگ اس میں بھڑک رہی ہے اور اس کے کنارے پر وہ کھڑے ہیں۔اس سے زیادہ اور خوف کیا ہو سکتا ہے جبکہ وہ آگ خدا تعالیٰ کی لعنت کی آگ ہے، اس کے قہر کی آگ، اس کی ناراضگی کی آگ ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت قوم پر ایک نہایت ہی خوف کا وقت ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس آگ کے گڑھے میں نہ گر جائیں۔تب خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک نظارہ دنیا کو دکھاتا ہے۔خدا تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، وہ غنی ہے، دنیا میں سب سے بڑا متقی ، دنیا میں سب سے بڑا مطہر، دنیا میں سب سے بڑا عالم، دنیا میں سب سے بڑا عاشق قرآن اور عاشق رسول کہلانے والے کا بھی خدا محتاج نہیں ہے بلکہ یہی شخص خدا کا محتاج ہے۔پس اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا نظارہ اس طرح دکھا تا ہے کہ بھی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اس شخص کو چن لیتا ہے جو قوم کی نگاہ میں بوڑھا ہوتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو بہت دفعہ طعنہ دیا گیا کہ بوڑھا آدمی ہے، سمجھ کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ بوڑھا ہے یا نہیں ہے لیکن ہے میری پناہ میں ، میری گود میں ، اس واسطے تم اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتے۔کبھی خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا اس طرح مظاہرہ کرتا ہے کہ ایک بچے کو چن لیتا ہے۔دنیا کہتی ہے کہ بچہ ہے، قوم تباہ ہو جائے گی ، ناسمجھ ہے ، کم علم ہے، کم تجربہ ہے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ