خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 354
خطبات ناصر جلد اول ۳۵۴ خطبہ جمعہ ۵ راگست ۱۹۶۶ء سے ہے۔جیسا کہ خود قرآن متعدد جگہ اسے بیان فرماتا ہے اور جس کی تفصیل میں جانا اس وقت میرے لئے ممکن نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دو و حیوں کے ذریعہ ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ موصی حقیقتا وہی ہوتا ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں، اس کے فضل ، اس کی رحمت اور اس کے احسان کی وجہ سے اس لئے نازل ہوتی ہیں کہ اس شخص نے اپنی گردن کلیتاً قرآن کریم کے جوا کے نیچے رکھی ہوتی ہے۔اپنے پر وہ ایک موت وارد کرتا ہے اور خدا میں ہو کر ایک نئی زندگی پاتا ہے اور اس وحی کی زندہ تصویر ہوتا ہے کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْانِ۔“ پس چونکہ وصیت کا یا نظام وصیت کا یا موصی صاحبان کا، قرآن کریم کی تعلیم ، اس کے سیکھنے اور اس کے سکھانے سے ایک گہرا تعلق ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم قرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپرد کئے جائیں۔66 اس لئے آج میں موصی صاحبان کی تنظیم کا، خدا کے نام کے ساتھ اور اس کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے اجراء کرتا ہوں۔تمام ایسی جماعتوں میں جہاں موصی صاحبان پائے جاتے ہیں ان کی ایک مجلس قائم ہونی چاہیے۔یہ مجلس باہمی مشورے کے ساتھ اپنے صدر کا انتخاب کرے۔منتخب صدر جماعتی نظام میں سیکرٹری وصایا ہو گا۔ممکن ہے بعد میں ہم اس کا نام بھی بدل دیں لیکن فی الحال منتخب صدر ہی سیکرٹری وصایا ہو گا اور اس صدر کے ذمہ علاوہ وصیتیں کرانے کے یہ کام بھی ہوگا کہ وہ گاہے گاہے مرکز کی ہدایت کے مطابق وصیت کرنے والوں کے اجلاس بلائے۔اس اجلاس میں وہ ایک دوسرے کو ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں جو ایک موصی کی ذمہ داریاں ہیں۔یعنی اس شخص کی ذمہ داریاں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی بشارت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کے سارے فضلوں اور اس کی ساری رحمتوں اور اس کی ساری نعمتوں کا وہ وارث ہے۔اور وہ صدر ان کو یاد دلاتا رہے کہ تمام خیر چونکہ قرآن میں ہی ہے اس لئے وہ قرآن کریم کے نور سے پورا حصہ لینے کی کوشش کریں اور ان کو بتایا جائے کہ قرآن کریم کے انوار کی