خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد اول ۳۵۳ خطبہ جمعہ ۵ راگست ۱۹۶۶ء ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گئے۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام کا ترجمہ ہی ہے جو بہشتی مقبرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا تھا۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اُنْزِلَ فِيْهَا كُلُّ رَحْمَةٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اُتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا اُنْزِلَ فِيهَا كُلُ رَحْمَةٍ “ اس قبرستان میں ہر قسم کی رحمت کو نازل کیا گیا ہے۔یعنی اس میں دفن ہونے والے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کے وارث ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان تمام نعمتوں کا کب اور کس طرح وارث بنتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک دوسرے الہام میں بتایا الْخَيْرُ كُلُّةَ في القُرانِ ساری بھلائیاں اور نیکیاں اور سب موجبات رحمت قرآن کریم میں ہیں اور رحمت کے کوئی سامان ایسے نہیں جو قرآن کریم کو چھوڑ کر کسی اور جگہ سے حاصل کئے جاسکیں اور رحمت کے ہر قسم کے سامان صرف قرآن کریم سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔تو فر ما یا اُنْزِلَ فِيهَا كُلُ رَحْمَةٍ کہ اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کی تمام برکتوں کے وارث ہوں گے۔کیونکہ کوئی برکت بھی قرآن کریم سے باہر نہیں اور نہ کسی اور جگہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس لئے ایسے لوگوں پر ہر قسم کی نعمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ موصی صاحبان کا ایک بڑا گہرا اور دائمی تعلق قرآن کریم ، قرآن کریم کے سیکھنے ، قرآن کریم کے نور سے منور ہونے ، قرآن کریم کی برکات سے مستفیض ہونے اور قرآن کریم کے فضلوں کا وارث بننے سے ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی بعض برکات ایسی بھی ہیں جن کا تعلق اشاعت قرآن