خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1027
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۲۷ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۲۸ تا ۳۱) تو اس دنیا میں دنیا کی اس زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فیصلہ ہر فرد بشر کے متعلق کیا جاتا ہے ہر اس فرد بشر کے متعلق جو اپنی قربانیوں کو انتہاء تک پہنچاتا اور اپنے رب کی محبت میں اپنے نفس کو کلی طور پر مٹادیتا اور اس پر ایک موت وارد کر دیتا ہے اس پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے یہ بشارت دیتا ہے کہ اب تو ایسے مقام تک پہنچ گیا ہے کہ جنت کا یقینی طور پر ہمیشہ کے لئے تو وارث رہے گا اور شیطان تجھے بہکانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔یہ فیصلہ کی گھڑی اس شخص کے لئے لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے کیونکہ اس میں وہ عظیم فیصلہ اس کی ابدی زندگی کے متعلق کیا جاتا ہے جو اس دنیا سے شروع ہوتی اور اُس دنیا میں جا کے بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ اس کے لئے خوشیاں اور سرور پیدا کرتی رہتی ہے۔اتنا اہم فیصلہ جس گھڑی کیا جائے۔جب انسان کے تمام انفرادی اندھیرے یک قلم دور کر کے ان کی بجائے اللہ تعالیٰ کا نور اس کی روح اور اس کے جسم پر قبضہ کر لے۔اتنا عظیم فیصلہ جو ہے وہ اس فرد واحد کے لئے لَیلَةُ الْقَدْرِ کا حکم رکھتا ہے یہ انفرادی لَيْلَةُ الْقَدرِ ہے اور یہ لَیلَةُ الْقَدرِ جو انفرادی ہے سال کے کسی حصہ میں آسکتی ہے اس کے لئے رمضان کی کوئی شرط نہیں رمضان کے دس دنوں یا دس راتوں کی کوئی شرط نہیں اور دراصل اسی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا ذکر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہؓ کی روایتوں میں ہے کہ وہ سال کے کسی حصہ میں آسکتی ہے۔دوسری وہ لَیلَةُ الْقَدْرِ ہے جس کا تعلق رمضان سے اور رمضان کی آخری دس راتوں سے ہے اس کی حکمت جیسا کہ تفسیر کبیر میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعہ ان کی اُمتوں سے ایک عہد لیا کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ان سے بھی ایک عہد کرتا ہے اور حکم اور بشارت دیتا ہے کہ تم اپنے عہد کو پورا کرو میں اپنے عہد کو پورا کروں گا اور اس کے لئے ایک ظاہری علامت اللہ تعالیٰ کی رضا کے اظہار کی رکھی جاتی ہے۔پہلے انبیاء نے بھی اپنی امتوں سے عہد لیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنی نوع انسان سے یہ کہا کہ اُمت مسلمہ میں شامل ہو جاؤ اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے رب سے یہ عہد باندھو کہ اسلام کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو گزارو گے۔یہ عہد ہے اسلام کا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم