خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1026
خطبات ناصر جلد اول ١٠٢٦ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر فرد بشر پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں بہت سے احکام ہیں جو اسے دیئے گئے ہیں بہت سے اوامر ہیں جو اسے کرنے ہوتے ہیں اور جنہیں اسے کرنا چاہیے یا بہت سی نواہی ہیں جن سے اسے بچنا چاہیے۔انسان جس طرح جسمانی لحاظ سے نشو ونما حاصل کرتا ہے پہلے ارتقا کے کئی دوروں میں سے وہ رحم مادر میں گزرتا ہے اور پھر بہت سے ارتقائی دوروں میں سے وہ پیدائش کے بعد وہ اس دنیا میں گزرتا ہے پھر وہ اپنی بلوغت کو پہنچتا ہے جسمانی طور پر اگر وہ لمبی عمر پائے تو وہ انحطاط کے زمانہ کو پاتا ہے۔اس کے مشابہ مگر (ایک فرق کے ساتھ ) روحانی ارتقا اور روحانی نشونما بھی وہ حاصل کرتا ہے پہلے وہ تقویٰ کی موٹی موٹی راہوں پر چلتا ہے پھر وہ اس کتاب عظیم سے جو ھدی للعلمین ہے تقویٰ کی مزید باریک راہوں کا علم حاصل کرتا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے اسی طرح وہ روحانی ترقی کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی روحانی بلوغت کو پہنچتا ہے جس کے بعد کوئی انحطاط نہیں اور یہ فرق ہے روحانی اور جسمانی بلوغتوں میں کہ جسمانی بلوغت کے بعد اس دنیا میں ایک انحطاط کا زمانہ بھی بہت سے لوگوں پر آتا ہے لیکن روحانی بلوغت کے بعد پھر انحطاط کا کوئی زمانہ روحانی بالغ پر نہیں آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے لطیف رنگ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرمایا جسے بشاشت ایمانی حاصل ہو جائے اس کو پھر شیطان کے حملوں کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا الفاظ مجھے یاد نہیں اسی قسم کا مفہوم ہے یعنی جس کے اعمالِ صالحہ فطرت کا ایک حصہ بن جائیں اور ان کی بجا آوری میں وہ کوئی تکلیف یا کوفت محسوس نہ کرے اسے کسی قسم کی کوشش اور جدو جہد نہ کرنی پڑے بلکہ جس طرح وہ سانس لیتا ہے اور زندگی کو قائم رکھتا ہے اسی طرح ایسا شخص بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالاتا ہے اور جس شخص کے دل میں اس قدر بشاشت اعمالِ صالحہ کے بجالانے میں پیدا ہو اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر دکھ جو وہ سہے دنیا اسے دکھ سمجھے تو سمجھے وہ اس میں لذت محسوس کرے اس بلوغت کے بعد کسی قسم کے روحانی انحطاط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہی وہ کیفیت ہے بلوغت کی جس کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِى إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً - فَادْخُلِي فِي عِبْدِى -