خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1028
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۲۸ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء کے ذریعہ اُمتِ مسلمہ سے لیا گیا ہے۔اسلام کے (اسکمت کے ) معنی یہ ہیں کہ انسان اپنا سب کچھ اپنے رب کے حضور پیش کر دے اور اس کی راہ میں قربان کر دے پھر جس چیز کی جس وقت ہمارا رب اجازت دے اس چیز سے اس وقت تک ہم فائدہ اٹھائیں اور ہر وقت اس بات کے لئے تیار ہوں کہ اپنی ہر چیز خواہ وہ مادی ہو یا جذباتی ہو یا کسی اور طرح ہم سے تعلق رکھنے والی ہوا سے اپنے رب کی رضا کے لئے ہم ہر وقت قربان کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔یہ عبد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اُمتِ مسلمہ سے لیا اور اس کی ظاہری علامت رمضان کو قرار دیا اس مہینہ میں ہم رات اور دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں۔رمضان کی عبادت ہر قسم کی عبادتوں کا مجموعہ ہے اس میں نفس کشی بھی شامل ہے اس میں جفا کشی بھی شامل ہے اس میں لذت کی قربانی بھی شامل ہے اس میں مال کی قربانی بھی شامل ہے اس میں وقت کی قربانی بھی شامل ہے اس میں جان کی قربانی بھی شامل ہے ہر قسم کی قربانیوں کا نمونہ ، ہر قسم کی قربانیوں کے پھولوں کا گلدستہ ہے یہ ماہ رمضان !!! تو ظاہری علامت اس روح کی جو اسلام کے ذریعہ اللہ تعالی پیدا کرنا چاہتا تھار مضان کی عبادتوں میں رکھی گئی اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر تم اسلام کی روح کو اپنے اندر قائم رکھو گے اور ایک حقیقی مسلمان کی زندگی گزارو گے جس کی ظاہری علامت رمضان کی عبادتیں ہیں۔تو میں تمہاری نیتوں اور خلوص کو دیکھتے ہوئے اور خالص تقویٰ کی بنیادوں پر جو اعمال صالحہ تم بجالا ؤ ان کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہارے ساتھ اس مہینہ میں ایک نمایاں اور خصوصی تکلیف کروں گا اور وہ یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں ایک وقت ایسا مقرر کروں گا تمہارے لئے اے اُمتِ مسلمہ ! کہ جب تمہاری دعاؤں کو میں قبول کروں گا جب میں تمہارے قریب آؤں گا اور اپنے قرب سے تمہیں نوازوں گا۔تو اسلام کی جو پابندیاں ہیں اور اسلام کی جو اتباع اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اس کی ظاہری علامت کے طور پر رمضان رکھا گیا ہے جس میں ایک چھوٹے سے وقت میں تمام قربانیوں اور تمام اعمال صالحہ کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔زبان سے کسی کو ضر نہیں پہنچانا، ہاتھ سے ضر ر نہیں