خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 802
خطبات ناصر جلد دہم ۸۰۲ خطبہ نکاح ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء ایک احمدی کی خوشی جو ہے۔اس کی بنیاد بنتی ہے غلبہ اسلام کا زمانہ۔اسی واسطے میں جماعت کو کہتا ہوں کہ ہماری مسکراہٹیں جس وجہ سے ہیں وہ وجہ اصلی اور حقیقی اور دائی ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ پورا ہو کے رہے گا۔اس واسطے ہماری مسکراہٹیں دنیا کی کوئی طاقت خواہ وہ کتنی تیوریاں چڑھا کے زور لگا رہی ہو ہم سے چھین نہیں سکتی۔ہمارے چہروں پر تو مسکراہٹیں ہی کھلیں گی۔یہ ہے ہماری عید نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ اور ساتھ ہی کہہ دیا کوئی فخر نہ کرنا۔کیونکہ یہ مہمان نوازی جو ہے وہ مغفرت کرنے والے خدا بار بار رحم کرنے والے خدا کی طرف سے ہے تم نے غلطیاں بھی کیں۔تم سے گناہ بھی سرزد ہوئے غفلتیں بھی ہوئیں۔تم نے اپنی ذمہ واریوں میں سستیاں بھی دکھا ئیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے تمہیں معاف کر دیا۔تمہاری اجتماعی کوشش قبول ہو گئی۔یہ جو عظیم مہم اس عید کے منانے کی ہے کہ غلبہ اسلام کے دن آگئے۔اس عظیم مہم میں سب سے بڑی ذمہ واری اس شخص کے خاندان کے افراد پر ہے جو مہدی بن کر دنیا کی طرف بھیجا گیا۔اس کے پہلے مخاطب گھر والے ہی تھے نا اور انہی کے دو افرا دلڑکے اور لڑکی کے نکاح کا اس وقت میں اعلان کرنے لگا ہوں۔تو یہ خوشی تو ہے ہمارے لئے خوشی کا دن ہے۔نکاح بھی خوشی کا دن ہے لیکن یہ بریکٹ ہے یہ جڑا ہوا ہے اس بشارت اور خوشی کے ساتھ۔زمانہ گزر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے بعد ہر گھڑی بڑھ رہا ہے۔امتداد زمانہ کے ساتھ زمانہ میں بھی پھیلاؤ ہو گیا اور وسعتِ مکانی بھی ہو گئی ان برکات کی۔وہ برکات جو ہیں وہ قادیان یا پھر صرف پنجاب اور ہندوستان میں محمد ود تو نہیں رہیں۔اب تو ساری دنیا میں اسلام کی برکات ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سمندروں کی طرح موجیں مار رہے ہیں۔میرے یہ دو بھائی یہاں بیٹھے ہیں۔لے دو مختلف افریقن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ بھی معجزہ ہے خدا کا۔تو ہماری ذمہ واریاں (اس وقت میں پھر اپنے خاندان کو مخاطب کرتا ہوں) بہت بڑھ گئی ہیں۔اس واسطے جماعت کی یہ ذمہ داری لے حضور کا اشارہ مکرم عبد الوہاب بن آدم صاحب مبلغ انچارج و امیر جماعت احمد یہ گھانا اور پیراماؤنٹ چیف کالوں صاحب امیر جماعت احمد یہ سیرالیون کی طرف تھا۔