خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 801 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 801

خطبات ناصر جلد دہم ۸۰۱ خطبہ نکاح ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء اس تہوار کی عظمت کے لئے ایک عظیم قربانی خدا کے حضور پیش کی گئی تھی کہ انسان اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں وقف کرے۔جان تو بہت دے دیتے ہیں۔دنیا کے لئے بھی اور دین کے لئے بھی۔لیکن ایک ذبح عظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی زندہ رکھ کر اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو خدا اور خدا کی تعلیم کے لئے وقف کر دینے کی شکل میں اور اس کا تعلق ہے حج کے ساتھ اور حج کی عید کے ساتھ یا ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ اگر تو ثابت قدم رہے گا اپنے رب پر ایمان لانے کے بعد اس کی معرفت حاصل کرنے کے بعد ثبات قدم دکھائے گا تو تمہارے اوپر اے انسانو! فرشتے نازل ہوں گے اور تمہیں کہیں گے کہ کوئی خوف اور ڈر تمہارے قریب نہیں آنا چاہیے اور کوئی غم نہیں آنا چاہیے تمہارے پاس جس کا مطلب ہے کہ خوشیوں سے معمور ہو جاؤ۔فرشتے آئے یہ کہیں گے کہ تمہارے وجود اور تمہارے دل اور سینے اور دماغ خوشیوں سے معمور ہو جا ئیں اور تمہارا ماحول جو ہے وہ خوشی سے جگمگانے لگے۔یہ بشارت سن کے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری قربانیوں کو قبول کیا اور اپنی جنتوں کے جو وعدے دیئے تھے وہ جنتیں تمہارے لئے پیدا کر دیں اور فرشتے کہیں گے ہم تمہارے ساتھی ہیں۔نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ ( حم السجدة : ٣٢) اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی اور جنت ارضی ہو یا جنت اخروی۔اس کی علامت یہ ہے کہ کبھی ایسی خواہش تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوگی۔جو خدا تعالیٰ کی مرضی سے تضا در کھنے والی ، اس کی مخالف ہو۔وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ اَنْفُسُكُمُ ( حم السجدة : ٣٢) تمہارے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہوگی وہ ایسی ہوگی جو خدا کو بھی پسند آئے گی اور تمہیں مل جائے گی اور جو تم مانگو گے وہ تمہیں دیا جائے گا یعنی کامل اطاعت خدا کے حضور تم کرنے کے قابل ہو جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کے سچے اور کامل فضلوں اور رحمتوں کے تم وارث ہو گے اور نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ( حم السجدة : ۳۳) خدا تمہارا میزبان بن گیا۔اس کی بھیجی ہوئی دعوت تم کھاؤ اور خوشیاں مناؤ۔اس آیت میں جو کہا ہے کہ خوشیاں مناؤ اس زمانے میں اس کا اظہار ہوا ہے مہدی علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ۔آپ نے فرمایا کہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ غلبہ اسلام کا زمانہ آ گیا۔تو