خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 621
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۱ خطبہ نکاح ۲۰ را پریل ۱۹۷۳ء انسانی پیدائش کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۰ / ا پریل ۱۹۷۳ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عشاء از راه شفقت مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- محترمه مسعودہ حیات صاحبہ بنت مکرم ومحترم (ریٹائرڈ) لیفٹینٹ کرنل سردار محمد حیات خان صاحب قیصرانی کا نکاح پانچ ہزار روپے حق مہر پر محترم سردار سیف الرحمان خان صاحب قیصرانی ابن مکرم سردار امیر محمد خان صاحب قیصرانی کے ساتھ قرار پایا ہے۔۲- محتر مہ امتہ الکریم صاحبہ بنت مکرم و محترم چوہدری محمد اسماعیل صاحب بقا پوری ساکن کراچی کا نکاح تین ہزار روپے حق مہر پر محترم لیاقت علی خان صاحب ابن مکرم حکیم یوسف علی خان صاحب لاہور کے ساتھ قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسانی پیدائش، زندگی ، موت اور اس کے بعد کی ابدی زندگی ایک ایسا سلسلہ ہے جو ایک خاص مقصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔یہ عبث نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں فرمایا ہے۔أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثًا (المؤمنون : ١١٦) یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے؟