خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 622 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 622

خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۲ خطبہ نکاح ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء غرض نہ زندگی اپنی ذات میں مقصود ہے اور نہ موت مقصود حیات ہے۔جہاں تک اجتماعی زندگی یا اجتماعی حیات کا تعلق ہے، اس دنیا میں زندگی اور موت ، خوشی اور غمی اور صحت اور بیماری ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔آج ہمارے ایک عزیز بیمار بھی ہیں۔ہمیں ان کی بیماری کی وجہ سے تشویش اور فکر بھی ہے۔اور ہمارے ایک عزیز کی شادی بھی ہے اور ہماری بچی کی شادی ہو رہی ہے۔ہمیں اس شادی کی ( شادی تو دونوں طرف سے ہوتی ہے ) خوشی بھی ہے۔گو یا بیماری کی تشویش اور شادی کی خوشی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔پچھلے دنوں ایک دفعہ عصر کی نماز کے بعد میں نے دو جنازے پڑھائے اور اسی وقت دونکا ھوں کا اعلان بھی کیا۔میں نے دوستوں سے کہا کہ جو دوست اپنے عزیزوں کے جنازوں کے ساتھ آئے ہوئے ہیں وہ یہیں بیٹھیں اور نکاحوں کی خوشی میں شامل ہوں اور جن دوستوں کے لئے خوشی کا موقع پیدا ہوا ہے وہ نکاحوں کے اعلان کے بعد جنازوں کے ساتھ بہشتی مقبرہ میں جائیں اور اپنے وفات پانے والے بھائیوں کے غم میں شریک ہوں۔پس نہ موت مقصود حیات ہے اور نہ زندگی مقصود حیات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا فضل مطلوب و مقصود ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اسلام میں یہ تعلیم دی ہے کہ مخلوقات میں سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا کہ وہ اس کا عبد بنے۔چنانچہ فرمایا۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (التل ریت:۵۷) چنانچہ عبد بننے کے لئے قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے، بڑی تفصیل کے ساتھ بڑی وسعت سے اور بڑی گہرائیوں پر مشتمل جو تعلیم دی ہے، اس میں بڑی نمایاں چیز یہ ہے کہ اطاعت رسول کرو گے تو اپنی زندگی کے مقصد میں کامیاب ہو جاؤ گے۔جہاں تک اطاعتِ رسول کا تعلق ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ، آپ کے صبح و شام کے عمل ہمارے لئے ایک حسین اسوہ اور ایک عمدہ مثال ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ زندگی سے پیار کیا اور نہ موت پر ضرورت سے زیادہ زور دیا۔جب جنگوں کا زمانہ تھا اور