خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 438
خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۸ خطبہ نکاح ۹ رفروری ۱۹۶۹ء کارروائی ایسی کرے جو درست نہ ہو تو مستقبل میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر جہیز کا معاملہ ہے شادی اور رخصتانہ پر کھانے پینے میں غلط طریق کو اختیار کرنا یا اسراف اور نمائش کرنا ہے۔یہ ساری چیزیں وقتی اور بے معنی اور کم وزن خوشیاں تو انسان کو پہنچا سکتی ہیں۔بعض دفعہ وقتی عارضی خوشیاں بھی نہیں پہنچاتیں۔لیکن بہر حال ایسا ممکن ہے لیکن مستقل خوشیوں کے راستہ میں ایسی چیز میں روک بن جاتی ہیں۔ہماری جماعت میں عام دستور یہ ہے کہ نہ اتنا کم مہر ہو کہ مہر کی ساری حکمتوں کو اس سے باطل کر دیا جائے۔نہ اتنا زیادہ ہو کہ مہر کی سب حکمتوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔عام طور پر ایک سال کی تنخواہ کے مطابق مہر ہونا چاہیے۔کاغذی مہر بھی بعض دفعہ مقرر کر دیئے جاتے ہیں۔کوئی سال بھر کا عرصہ ہوا ایک نکاح کے سلسلہ میں لڑکی کی والدہ نے کہا کہ میری بچی کا پچاس ہزار روپے مہر ہونا چاہیے۔میں نے ان کو کہا کہ یہ دونوں گھروں کے عام حالات میں مناسب نہیں معلوم ہوتا تو وہ کہنے لگی مہر لینا تھوڑا ہے ذرا عزت ہو جاتی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ عزت ہی اگر مقصود ہو تو پھر پچاس ہزار کیوں؟ میں پچاس لاکھ روپے مہر پر شادی کا اعلان کر دیتا ہوں لیکن یہ درست نہیں ہے۔تو میں نے ان کی رضامندی سے رقم کاٹ کر پچاس ہزار سے پندرہ ہزار مہر کر دیا۔خیر وہ بچی اپنے گھر میں بڑی خوش ہے۔ممکن ہے پچاس ہزار خاوند کے ذہن میں چیتا تو اتنی خوشی کے سامان پیدا نہ ہوتے۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔جہیز کا معاملہ ہے بعض دفعہ یہ جھگڑے اور اختلاف کی باتیں علم میں آتی اور بہت دکھ پہنچاتی ہیں۔شادی ہوگئی رخصتانہ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یعنی لڑکے والوں کو اور خاوند کو اپنی مخلوق میں سے ایک بہترین چیز دی کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔تو خدا کا احسان ہے کہ اس نے بہترین مخلوق تمہیں عطا کی بجائے اس کے کہ اس پر شکر ادا کریں یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں تو یہ تھا کہ تم اپنے جہیز میں ہیں ہزار روپے کے زیور لے کر آؤ گی اور لائی ہو تم اپنی حیثیت کے مطابق چار پانچ ہزار کے یا کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو سوچا تھا کہ تمہارے ماں باپ ، ایک کا راور