خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 437
خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۷ خطبہ نکاح ۹ رفروری ۱۹۶۹ء باہمی تعلقات کی بنیاد حقیقی صداقتوں اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۹ رفروری ۱۹۶۹ ء بمقام ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر عزیزہ سیدہ شاہدہ تنویر صاحبہ بنت مکرم سید عبداللہ شاہ صاحب ربوہ کا اعلان نکاح فرمایا جو مکرم قریشی لطیف احمد صاحب ایم۔اسے انکم ٹیکس آفیسر لائل پور پسر مکرم حکیم محمد فیروز الدین صاحب مرحوم ( برادر اصغر مکرم محمد احمد صاحب حامی اسسٹنٹ مینجر گلیکسوز لیبارٹریز رینالہ خورد) سے چھ ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا تھا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے موقع پر ہمیں یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ ولتنظرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ١٩) نیا رشته، نیا تعلق قائم ہوتا ہے اس وقت وقتی خوشیوں اور عارضی نمائشوں کی بجائے اس بات کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی باتیں ، ایسے طریق ، ایسی راہیں اختیار کی جائیں جن کا خوشگوار اثر مستقبل پر پڑے۔چھوٹی باتیں بھی بعض دفعہ ایسی ہوتی ہیں کہ بظاہر چھوٹی ہونے کے باوجودان کا نتیجہ مستقبل کے لئے اچھا نہیں ہوتا اور بعض بڑی اہم باتیں بھی ہیں جن کو انسان نظر انداز کرتا اور مستقبل کی خوشحالی کو مشتبہ بنادیتا ہے۔اسی ضمن میں مہر کا مسئلہ بھی ہے۔مہر کے رکھے جانے میں بہت سی حکمتیں ہیں اور ان حکمتوں کو نظر انداز کر کے اگر انسان وقتی طور پر کوئی کاغذی