خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 439
خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۹ خطبہ نکاح ۹ رفروری ۱۹۶۹ء ایک ریفریجریٹر (Refrigerator) اور یہ اور وہ دیں گے اور تم تو یہ چیزیں نہیں لائیں۔تو اشرف المخلوقات کا ایک فرد تمہیں مل گیا اور جن چیزوں کی کوئی قدر نہیں رب العالمین کی نگاہ میں ان کی طرف تم نے اپنا خیال لگایا ہوا ہے اور اچھی چیز سے توجہ ہٹا کے ایک ناقص اور بے معنی چیز کی طرف اپنی توجہ کو پھیر رہے ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لِأَهْلِهِ یہ نہیں کہا کہ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کی موٹر کی بڑی اچھی نگہداشت کرتا ہے یا اس کے جہیز کا بڑا خیال رکھتا ہے یا سونے کا جوز یور وہ لاتی ہے اس کی بڑی حفاظت کرتا ہے بلکہ یہ کہا کہ اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کی حفاظت کرتا اور اس کے لئے خیر بنتا ہے، اس کی دینی ، اس کی دنیوی اور اس کی جسمانی ، اس کی جذباتی ضرورتوں کو وہ پورا کرتا ہے اور بیوی کا خیال رکھتا ہے۔جو بیوی کے لئے اچھا ہے وہ خدا کی نگاہ میں اچھا ہے لیکن جو بیوی کے جہیز کے لئے اچھا ہے۔جو بیوی کی موٹر کے لئے اچھا ہے۔جو بیوی کے ریفریجریٹر (Refrigerator) کے لئے اچھا ہے۔جو بیوی کے زیور کے لئے اچھا ہے۔یہ نہیں کہا کہ خدا کی نگاہ میں وہ اچھا ہے۔فرمایا جو بیوی کے لئے اچھا ہے وہ اچھا ہے۔بیوی کو یہ نہیں کہا کہ تو اپنے خاوند کی تنخواہ کی پرستش کیا کریا تنخواہ کے مطابق اس کی عزت یا احترام یا اس کی اطاعت کیا کر کہ جس کی پانچ ہزار روپے تنخواہ ہو اس کی بیوی کو زیادہ اطاعت کرنے کا حکم ہو اور جس بیچارے غریب مزدور کی آمدنی ساٹھ روپیہ ہو اس کی بیوی کو کہا جائے کہ اسی تنخواہ کے مطابق اپنے خاوند کی عزت تو نے کرنی ہے۔یہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا ہے کہ خاوند کی عزت کرو کیونکہ جس طرح تو اس کے لئے اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہونے کی حیثیت میں جوڑا بنائی گئی ہے وہ بھی اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہے اور تیرے لئے وہ عمر بھر کا ساتھی ہے اس واسطے اس کی اطاعت فی المعروف، اس کی عزت، اس کا احترام کرو۔تو ان تعلقات کی بنا بڑی حسین اور بڑی اچھی ہے جو اسلام نے ہمیں بتائی ہے۔جو ان چیزوں کو چھوڑ کے عارضی اور فانی چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ بعض دفعہ نمائشی خوشیاں تو حاصل کر لیتے ہیں۔نمائشی خوشی سے میرا مطلب یہ ہے کہ ایک خاوند اپنے دوستوں میں بیٹھا اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ دیکھو میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ میری بیوی