خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 376

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۱ نومبر ۱۹۶۷ء اس طرف توجہ کرتے ہی نہیں حالانکہ ہماری نجات کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اسلام پر عمل کریں اور دنیا کی نجات کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اسلام کی پاک تعلیم پر عمل کرے۔ازدواجی تعلق کے متعلق بھی اسلام نے نہایت حسین تعلیم پیش کی ہے۔خاوند کے لئے بھی اور بیوی کے لئے بھی۔اسلام نے خاوند کو کہا کہ تمہاری بیوی ہوسکتا ہے کہ کئی ایسی باتوں کا اظہار کرے جو تمہیں ناپسند ہوں گی اور کئی ایسی باتوں کا اظہار کرے جو تمہیں پسند ہوں گی۔جو تمہارے نزدیک ناپسندیدہ ہوں انہیں نظر انداز کر دینا اور جو پسند ہوں انہیں اپنا نا۔اس میں اشارہ فرمایا کہ تمہاری بھی بعض باتیں بیوی کو ناپسند ہوں گی اور بعض باتیں پسند ہوں گی۔پس اسے بھی ہدایت کی کہ تم نا پسند کو نظر انداز کر دینا اور جو پسند ہوں انہیں قبول کر لینا۔تو ہر دومیاں اور بیوی کو تعلیم دی کہ ہر دو کو ایک دوسرے کے لئے کچھ چھوڑنا پڑے گا۔اس میں قربانی اور ایثار کی بڑی حکیمانہ تعلیم دی گئی ہے۔جس سے آپس کے تعلقات محبت بڑھتے اور مضبوط ہوتے ہیں۔پھر اسلام نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ جن دو گھروں میں رشتہ قائم ہو ان کو آپس میں نہایت اچھا سلوک ایک دوسرے سے کرنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے سسرال سے نہایت اچھا سلوک فرمایا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ بھی اپنے سسرال والوں سے نہایت اچھا سلوک فرماتے رہے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ہماری عمر کے بھی تھے۔کوئی اگر کسی گھر سے بیٹی بیاہ لائے اور اس گھر کی عزت نہ کرے تو اس کی عزت کیسے قائم ہوگی؟ پھر ہر شخص اپنے گھر میں وہی لڑکی لاتا ہے جس کو وہ عزت اور احترام والی سمجھتا ہے اور اسی گھرانہ سے لاتا ہے جس کو وہ عزت و احترام والا سمجھتا ہے۔اگر وہ ایسے گھرانہ سے آئی ہے جہاں پہلے قرابت داری نہ ہو تو اس وقت بھی اسلام کا بنیادی حکم یہ ہے کہ ہر شخص سے محبت اور سلوک سے پیش آنا، ہر شخص کی غم خواری کرنا، اس کے دکھوں میں اس کا شریک ہونا۔بے تکلف معاشرہ اسلام نے ہی قائم کیا ہے۔فرمایا کہ جو حقیقی مومن ہوں گے وہ تمام رسوم اور رواج کو اپنے گھروں سے باہر نکال پھینکیں گے۔قرآن کریم کے نزول کے وقت جتنے رواج