خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 377
خطبات ناصر جلد دہم ۳۷۷ خطبہ نکاح ۲۱ نومبر ۱۹۶۷ء اور قیود تھیں وہ اس تعلیم کی برکت سے توڑ کے پھینک دی گئیں۔تو مومن اس دنیا میں آزادی کی زندگی بسر کرتا ہے اور ناجائز رسوم اور قیود کا اپنے کو پابند نہیں ہونے دیتا۔پس میں تمام عزیزوں کو جن کا نکاح ہو رہا ہے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق بے تکلف زندگی گزار نے اور پاک معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں اور تمام ناجائز رسم و رواج کو نکال پھینکنا چاہیے اپنے معاشرہ سے۔جس وقت کسی گھر کے بچے جوان ہوتے ہیں تو ان کی شادی کا وقت آ پہنچتا ہے اور ان تعلقات کی ذمہ داری ان پر آپڑتی ہے۔جو بوڑھے ہو جاتے ہیں ان پر نوجوانوں کی نگرانی کی ذمہ داری آپڑتی ہے۔پس اگر نوجوان اور بوڑھے اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو نبھا ئیں اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تو اس کے نتیجہ میں ایک پاک معاشرہ قائم ہو جائے گا جس کی برکت سے خود ہماری زندگیاں آرام اور سکون کی زندگیاں ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ہم دوسرے لوگوں کے لئے بھی پاک معاشرہ کا نمونہ پیش کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )