خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 70
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۱٫۱۸ کتوبر ۱۹۷۴ء بہت سی دعاؤں کے اپنے ملک کے استحکام کے لئے بھی دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ ہماری ان دعاؤں کو بھی قبول کرے اور ہمارے ملک میں بسنے والے پاکستانی شہریوں کے لئے حقیقی عید کے سامان پیدا کرے۔آج عید ہے اور ہم خوش ہیں کہ دنیا کی نجات کے لئے اور دنیا کی خوشحالی کے لئے اور دنیا کی روحانی خوشیوں کے لئے مہدی علیہ السلام مبعوث ہوئے اور مسیح موعود علیہ السلام کا روحانی آسمانوں سے نزول ہوا۔جس غرض کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اور جس غرض کے پورا کرنے کے لئے اگر چہ ہم ہر روز ہی دعائیں کرتے ہیں لیکن رمضان کے مہینے میں خصوصاً بہت دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری ان دعاؤں کو بھی قبول کرے اور جس مقصد کے لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے وہ مقصد بھی پورا ہو اور وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر حقیقی خوشیوں کی وارث بنے۔عید ، عید میں فرق ہوتا ہے۔یہ فرق بہت سی جہات سے ہوتا ہے ایک عید ہے انفرادی یا خاندانی اور ایک عید ہے اجتماعی یعنی قوم کے لحاظ سے مملکت کے لحاظ سے اور نوع انسانی کی اجتماعی زندگی کے لحاظ سے۔پھر عید ہوتی ہے محض دنیوی اور ایک عید ہوتی ہے روحانی جس کی ذیل میں حسنات دنیا بھی آجاتی ہیں۔انفرادی دنیوی عید بھی ہوتی ہے اور انفرادی روحانی عید بھی ہوتی ہے۔اس لئے اس مضمون میں جب میں دنیوی عید کہوں گا تو اس سے محض دنیوی عید مراد ہوگی اور جب میں روحانی عید کہوں گا تو اس سے ایسی روحانی عید مراد ہو گی جو اپنی ذیل میں حسنات دنیا بھی لئے ہوئے آتی ہے۔ایک احمدی کی عید محض دنیوی عید نہیں ہوتی۔محض دنیا کی عید جس میں روحانی خوشیاں شامل نہ ہوں یا ان کے لئے جد و جہد نہ ہو یا ان کے حصول کے لئے دعا ئیں نہ ہوں یا ان کے حصول کے لئے جو دعائیں کی گئی ہیں وہ قبول نہ ہوں تو ایسی عید ایک احمدی کی عید نہیں ہوتی۔ایک احمدی کی عید ہے ہی روحانی عید۔چونکہ ہر احمدی (مومن) نوع انسانی کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے اس کی عید حقیقی معنی میں اس وقت ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی دعائیں قبول