خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 71
خطبات ناصر جلد دہم اے خطبہ عیدالفطر ۱٫۱۸ کتوبر ۱۹۷۴ء ہو کر اس کے لئے روحانی خوشیوں کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ چونکہ بڑا دیا لو ہے اس لئے وہ اس کی ذیل میں حسنات دنیا بھی دے دیتا ہے۔پس ہماری حقیقی عید اور ہماری حقیقی خوشیاں اس چیز میں ہیں کہ ہمارا ملک خوشحال ہو۔جس طرح ہم نے اپنے رب کریم سے اس کے پیار کو اور اس کی رضا کو اور اس کی جنتوں کو حاصل کیا ہے اور جس طرح ہماری روح اپنے پیدا کرنے والے رب کے حضور جھکی اور اس میں ایک سرور پیدا ہوا اسی طرح ہمارے ملک میں بسنے والوں کے لئے بھی روحانی خوشیوں اور سرور کے سامان پیدا ہوں۔مگر مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت صرف اس خطہ ارض کی خوشحالی کے لئے نہ تھی۔آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ تمام نوع انسانی خواہ وہ افریقہ کے جنگلوں میں بسنے والی ہو یا جنوبی و شمالی امریکہ میں بسنے والی ہو ، جزائر میں رہنے والی ہو یا ایشیا سے تعلق رکھنے والی ہو، جہاں بھی ہو۔ہر براعظم میں، ہر ملک اور ہر جزیرے میں بسنے والے انسان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے روحانی خوشیوں اور مسرتوں کے سامان پیدا کر دے۔یہ ہے مقصد جماعت احمدیہ کے قیام کا اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورا ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔اس نے ہمیں جو بشارتیں دی ہیں وہ ان کے پورا ہونے کے سامان پیدا کرنے والا ہے۔اس لئے ہمیں یہ کہا کہ تم خوش ہو جاؤ کیونکہ تمہارے لئے ایسی خوشی کے سامان پیدا کئے جارہے ہیں کہ جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں۔یہ کامیابی دنیوی طاقت کا حصول نہیں کیونکہ دنیوی طاقت (اور اقتدار سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ اس سے مراد وہ اقتدار ہے جس پر آج کا حکمران نازاں ہوتا ہے اور نہ اس سے مراد وہ دنیوی دولت ہے جس کے پیچھے دنیا آنکھیں بند کر کے پڑی ہوئی ہے اور جائز و ناجائز کا خیال بھی نہیں رکھتی۔غرض ہمارے لئے جو حقیقی اور بہترین اور آخری کامیابی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے اور ہماری حقیر کوششوں کو قبول کرے اور وہ اپنی عظیم طاقتوں کے ذریعہ ہماری حقیر کوششوں کے عظیم نتائج نکالے ورنہ (ہم تو ) کیا پڑی اور کیا پڑی کا شور بہ۔آج دنیا میں جس قدر انسان بستے ہیں ، ان کے مقابلہ میں عددی لحاظ سے جماعت احمدیہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔دنیا