خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 847 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 847

خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۷ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء بہت سے رشتے زیر غور آتے رہے۔بچوں سے بھی میں مشورہ لیتا رہا۔دعا بھی کرتا رہا۔بہتوں کو ردبھی کرتا رہا۔آخر تین چار رشتے رہ گئے ، ان چالیس دنوں کے آخری دنوں میں میرا چھوٹا لڑکا لقمان ، سارے ہی پریشان ہیں۔انسان اپنے اپنے رنگ میں اپنی اپنی طبیعتوں کے مطابق پریشانیاں اور درد اور کرب اور دکھ محسوس کرتا ہے۔لقمان نے مجھے ایک دن کہا کہ میں نے بڑا سو چا ہے۔میں پچاس فیصدی طاہرہ خان ، عبدالمجید خان صاحب کی بیٹی ہے اس رشتہ کی تائید میں اپنا میلان پاتا ہوں۔خیر۔میں نے مذاق سے پوچھا کہ وہ جو دوسرا پچاس فیصدی ہے وہ کس لڑکی کے حق میں ہے تو وہ کہنے لگا نہیں کوئی اور لڑکی نہیں۔لیکن خدا کی شان یہ کہ دوسری ہی رات اس نے خواب میں اپنی والدہ منصورہ بیگم کو دیکھا جنہوں نے بڑی دیر تک اس کے کہنے کے مطابق جس کا اکثر حصہ اسے یاد نہیں رہا بڑی تسلیاں دیں۔کچھ تنقید بھی کی مختلف رشتوں پر اور جو حصہ اس کو یاد رہ گیا وہ یہ تھا کہ منصورہ بیگم نے اسے کہا کہ زیر تجویز رشتوں میں طاہرہ ہی اچھی ہے۔ان کا انتخاب ہو گیا اور کسی طرف نہیں گیا۔میں نے پانچ تاریخ بارہ بجے جب یہ چالیس روزہ دعا کا زمانہ ختم ہوا۔اس وقت میں نے عبدالمجید خان صاحب کو تجویز بھیجی لیکن ان کو ساتھ یہ بھی کہا کہ میری دو شرطیں ہیں ایک یہ ہے کہ بچی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔اگر ا اپنی خوشی اور رضامندی سے وہ تیار ہو تب میں اور صرف اس وقت یہ رشتہ منظور کروں گا اور دوسرے یہ کہ اس کی والدہ بھی اس کے حق میں ہوں۔کیونکہ میں تمہارے گھر میں فتنہ نہیں پیدا کرنا چاہتا۔جب ان کی والدہ کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی کہ اس طرح تجویز آئی ہے بیٹی کے لئے۔وہ کہنے لگیں کہ دو ایک ہفتے ہوئے مجھے ایک خواب آئی اور خواب میں میں نے دیکھا کہ طاہرہ کے لئے بہت اونچا ایک رشتہ آگیا اور میں خواب میں حیران ہوتی ہوں کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے لئے اتنا اونچا رشتہ آ سکتا ہے لیکن وہ آ گیا۔لیکن اس وقت نام نہ بتانے کا زمانہ تھا نا! اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نہیں بتایا نام، کہ کہاں سے آیا رشتہ؟ پھر میں پریشان ہوئی خواب میں یا جاگنے کے بعد سوچا اور موازنہ کیا کہ جتنے رشتے آئے ہیں نمبر ایک یہ تو اتنا اونچا نہیں۔نمبر دو یہ تو اتنا