خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 54
خطبات ناصر جلد دہم ۵۴ خطبہ عیدالفطر ۸ / نومبر ۱۹۷۲ء میں اس وقت تفصیل میں نہیں جا سکتا۔دنیوی زندگی کی جنت کے تسلسل میں وہ وقت بھی آجاتا ہے جس کو ہم قیامت کہتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کے حسن کا وہ جلوہ جسے انسانی روح برداشت کر سکتی ہے پوری شان کے ساتھ ظاہر ہوگا اور اس کے محبوب انسان کو ابدی جنت کا وارث بنا دے گا۔پس اس دنیوی جنت میں ایک تو یہ لوگ آگئے۔دوسرے وہ لوگ اس میں داخل ہونے والے ہیں جن کے متعلق یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ گو یا د ہلیز پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے اندر جانے کا بھی موقع ہے اور باہر نکلنے کا بھی جیسا کہ بلعم باعور کا قصہ مشہور ہے۔بعض لوگوں نے اسے ایک فرد کہا ہے اور ہمارے نزدیک یہ ایک جماعت ہے یعنی ہمیشہ ہی اسی قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جوا اپنی کوششوں کے نتیجہ میں (وہ کوششیں جو نیک تو ہوتی ہیں لیکن عارضی ہوتی ہیں ) خدا تعالیٰ کے پیار کو اور اس کی بشارات کو حاصل کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا ہے تا زندگی کے اس دور میں اس کے متعلق کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ جو شخص اتنا مجاہدہ کر رہا ہے، اتنا جہاد کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اتنی قربانیاں دے رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کا مقبول نہیں بن سکا وہ بظاہر نیک نیتی قربانیاں دے رہا ہوتا ہے یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کا قربانیاں دینا گو یا بظاہر عند اللہ نیک نیتی پر محمول ہورہا ہے ویسے اللہ تعالیٰ کا علم تو ہر چیز پر محیط ہے۔غرض یہ اس کی ایک عارضی کیفیت ہے لیکن کیفیت نیکی اور اخلاص کی ہے اس واسطے خدا تعالیٰ کے پیار کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے۔اس کے بعد اس کی یہ کیفیت نہیں رہتی۔اس کے اندر تکبر پیدا ہو جاتا ہے چنانچہ وہ انسان جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی رُو سے ابدی پیار کے لئے پیدا کیا ہے وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے اور کچھ تھوڑا سا پیار حاصل کر لینے کے بعد سمجھتا ہے کہ اب میں بہت کچھ بن گیا ہوں۔اب مجھے خدا کی بھی ضرورت نہیں رہی پھر وہ بلعم باعور بن جاتا ہے اور وہ علامت بن جاتا ہے اُس جماعت کی جو خدا کے پیار کو پانے کے باوجود اپنے غرور کی وجہ سے پستی اور ذلت کی مستحق بن جاتی ہے۔ایسی جماعت یا ایسا شخص گویا جنت میں داخل بھی ہوا اور جنت سے نکالا بھی گیا۔یہ ایک الگ مضمون ہے اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں۔پس اس دنیا کی جنت دو قسم کی ہے۔ایک وہ جنت ہے جس میں بعض انسان داخل ہوتے