خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 55

خطبات ناصر جلد دہم ۵۵ خطبہ عیدالفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء ہیں اور پھر نکل آتے ہیں اور پھر جہنم میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ایک وہ جنت ہے جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں اور داخل ہی رہتے ہیں۔ان لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اِسْتَقَامُوا یعنی جن میں استقامت پائی جاتی ہے استقلال پایا جاتا ہے، جوصبر کے ساتھ مشکلات برداشت کرتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنی گردن کٹواتے ہیں لیکن اپنے ایمان پر بزدلی کا دھبہ نہیں آنے دیتے فرمایا یہی وہ لوگ ہیں کہ جب جنت میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے جنت سے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پس ہماری عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ہے یعنی وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے۔مغفرت کی چادر میں ہمیں لپیٹ لیتا ہے۔ہم جو کچھ اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق اس کے حضور پیش کرتے ہیں اور بار بار پیش کرتے ہیں مثلاً جن لوگوں کو خدا تعالیٰ زندگی دیتا ہے تیں سال تک چالیس سال تک اُن میں سے ہر شخص رمضان کے روزے رکھتا ہے ہر سال رمضان کی قربانیاں اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق خدا کے حضور پیش کرتا اور خدائے رحیم بار بار اس پر رحم کرتا ہے اور اس کے لئے ہر رمضان کے بعد ایک عید کا سامان پیدا کر دیتا ہے تو پہلوں کی عید بار بار آتی تھی لیکن اس لفظ عید میں یہ مفہوم نہیں تھا کہ وہ قربانیاں دیں گے اور دیتے چلے جائیں گے، اس میں ایک تسلسل قائم ہوگا، نیکیوں پر استقامت ہوگی ، استقلال ہوگا، صبر اور برداشت ہوگی ، خدا کے لئے فدائیت ہوگی اس کے لئے محبت ذاتی ہوگی اور اس کی قبولیت ہوگی اور اس کے بعد عید کا دن آجائے گا۔عید ان کے یعنی پہلوں کے ہاں آتی تھی اور یہ وہ عید تھی جس میں کھانے پینے اور کھیلنے اور کپڑے بنانے کا انتظام ان کو خود کرنا پڑتا تھا۔مسلمان کی وہ عید نہیں ہے مسلمان کی ہر عید تو قربانیوں کے ایک تسلسل میں آتی ہے اس لئے فرما یا إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہی ہمارا رب ہے اور پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان کے حق میں فرمایا۔تتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ اَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ( حم السجدۃ: ۳۱، ۳۲) وہ جنت ہے جو د نیا میں بھی ملتی ہے اور یہ وہ عید ہے جو خدائے غفور و رحیم کی طرف سے نُزُل یعنی مہمانی کے طور پر