خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 53

خطبات ناصر جلد دہم ۵۳ خطبہ عیدالفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء پس جہاں گناہوں پر اصرار ہو اللہ اپنا غضب بار بار نازل کرتا ہے۔اس کے لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصرار کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ نوح میں فرماتا ہے وَ اَصَرُوا وَاسْتَكْبَرُوا استكبارا اس کے برعکس اصرار کا لفظ نیکیوں کے تسلسل کے لئے قرآن کریم میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوا اور استقامت کا لفظ نیکیوں پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے اور بار بار اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نیکیاں کرتے رہنے کے معنی میں تو استعمال ہوا ہے لیکن گناہوں پر قائم رہنے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا استقامت اور استقلال یعنی صبر کے ساتھ اور تحمل کے ساتھ اور دُکھوں کی برداشت کے ساتھ اور ایثار کو پیش کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت اور ہرلمحہ تیار رہنے کے ساتھ جو زندگی گزاری جاتی ہے اس کے آخر میں جنت ہے جنت دو قسم کی ہے ایک اس دنیا کی جنت ہے اور ایک اُخروی زندگی کی جنت ہے اُخروی جنت میں جو لوگ داخل ہو گئے وہ گویا حفاظت میں آگئے شیطان دروازے پر اُن کو بہکانے کے لئے اور امتحان میں ڈالنے کے لئے کھڑا نہیں ہوتا لیکن جو اس دُنیا کی جنت ہے اگر ہم اس مضمون کا گہرا مطالعہ کریں تو اس جنت کی دو شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ایک کو آپ جنتی زندگی سے ملتی جلتی زندگی کہہ سکتے ہیں ( کیونکہ یہ امتحان اور ابتلا کی زندگی ہے ) جس میں داخل ہونے کے بعد نکلنے کا دروازہ کھلا ہے اور ایک حقیقی جنت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنے کا دروازہ نہیں کھلتا مثلاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ کے متعلق یہ بشارت دی کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے یہ لوگ جو مرضی کرتے رہیں یہ میری جنت سے نہیں نکلیں گے ”جو مرضی کرتے رہیں کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے رہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب یہ جو کچھ بھی کریں گے وہ نیکی ہی ہوگی اور وہ ان کو جنت سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ جنت کی نعماء کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔پس اس دنیا میں بعض انسان جنت میں داخل ہوتے ہیں اور جنت ہی میں رہتے ہیں پھر ابدی جنت ان کو نصیب ہو جاتی ہے۔اس دنیا کی جنت بھی انہیں مل جاتی ہے اور ساتھ ہی اسی تسلسل میں حقیقی جنت بھی مل جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر روشنی ڈالی ہے لیکن