خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 650
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۳ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بڑی اور وسیع اور قیامت تک پھیلی ہوئی امت مسلمہ میں سے صرف ایک شخص کو چنا یعنی مہدی معہود کو اور اس کے متعلق امت کو یہ ہدایت فرمائی کہ جب ہمارا مہدی آئے تو اُسے میرا سلام پہنچا دینا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں جو اس دُنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تھی بلکہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جو حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کی شکل میں اب دنیا میں رونما ہو چکا ہے دنیا بد قسمت ہے۔اس نے ابھی تک اس عظیم واقعہ کو جو نوع انسانی کی بھلائی کے لئے ایک عظیم تحریک چلانے والا تھا ، اس کو پہچانا نہیں۔لوگ مہدی معہود علیہ السلام کی طرف جھکے نہیں۔آپ کی جماعت میں داخل نہیں ہوئے۔اس مہم میں شریک نہیں ہوئے جو حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا میں گاڑنے کے لئے چلائی گئی ہے۔پس جماعت احمدیہ جس کا قیام اللہ تعالیٰ کے اپنے ہاتھ سے ،اس کی تقدیر اور منشا کے مطابق عمل میں آیا ہے، یہ کامیاب تو ضرور ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے نا کام نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی کوئی اللہ تعالیٰ کو اس کے ارادوں اور مقاصد میں نا کام کر سکتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی قربانیوں اور ایثار کے نتیجہ میں اور اپنے دل میں اللہ کے لئے بے لوث محبت کا جذ بہ رکھنے کے نتیجہ میں اللہ کے پیار میں سے کتنا حصہ حاصل کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں بھی اور آنے والی نسلوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھنے اور ان کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔خدا کرے ہماری جماعت میں جتنے رشتے بھی قائم ہوں وہ خود ( یعنی میاں بیوی اور ان کے خاندان ) بھی اور اُن سے چلنے والی نسلیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت، اس کے پیار اور محبت اور اس کی رضا اور اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے والی ہوں۔ان دعاؤں کے ساتھ اب میں ان نکاحوں کا اعلان کروں گا۔پھر بعد میں اجتماعی دعا بھی ہوگی۔ایجاب وقبول کے دوران حضور انور نے فرما یا ان نکاحوں میں ایک نکاح تو میرے چھوٹے بھائی عزیزم مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب کی صاحبزادی عزیزہ امتہ الولی صاحبہ کا ہے جو پندرہ ہزار