خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 649
خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۹ خطبہ نکاح ۷۲۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء خصوصیت ہے کہ وہ اس سلسلہ میں بہت گہرا گیا، بہت وسعتوں میں داخل ہوا اور اسلامی تعلیم نے بہت بلندیوں کی طرف پرواز کی کیونکہ اُس نے انسان کو بہت بلندیوں کی طرف لے کر جانا تھا۔قول سدیدان آیات قرآنیہ میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں ان آیات میں بہت سی نصیحتیں ہیں اُس انسان کے لئے جو غور اور فکر اور تدبر کا عادی ہو اور جس کے دل میں جذبہ ہو کہ اُس نے اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے مطابق اور اسلامی احکام کی روشنی میں ڈھالنا ہے۔اسی لئے ہم عام طور پر ان آیات میں سے کوئی ایک نصیحت لے کر کسی ایک خطبہ نکاح میں اور کوئی دوسری کسی اور خطبے میں بیان کر دیتے ہیں۔جہاں تک قول سدید کا تعلق ہے قرآن کریم نے صرف سچ بولنے کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اور بہت آگے جا کر قول سدید پر قائم رہنے اور قول سدید کو تعامل بنانے اور قول سدید کو اپنا شعار ٹھہرانے اور قول سدید کو مضبوطی سے پکڑنے اور قول سدید پر اپنے معاشرہ کی بنیا د ر کھنے کی طرف ہمیں بڑے زور سے توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قول سدید پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے سات خوشیاں مقدر فرمائی ہیں۔اس وقت میں سات نکاحوں کا اعلان کروں گا اس دعا کے ساتھ ( اور مجھے یقین ہے آپ کی دلی اور خاموش دعا ئیں بھی میرے ساتھ ہوں گی ) کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر تبلیغ و اشاعت اسلام کی جو ذمہ داری ڈالی ہے اس سے ہم بفضلہ تعالی نسلاً بعد نسل عہدہ برآ ہوتے چلے جائیں کیونکہ حضرت مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی صورت میں ایک عظیم واقعہ دُنیا میں رونما ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دُنیا کی طرف ایک خاص مقصد کے پیش نظر مبعوث فرمایا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔اس جماعت کی صرف ایک نسل پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قیامت تک ایک نسل کے بعد دوسری نسل پر یہ ذمہ داری منتقل ہونے والی ہے۔اسی طرح ہمیں اس عظمت کا خیال بھی ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہیے جس عظمت کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار نے ہمارے سامنے رکھا ہے