خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 548
خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۸ خطبہ نکاح ۳ ستمبر ۱۹۷۰ء کر دیتے ہیں کہ آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی جب کہ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں اور جو فقہاء ہیں انہیں پتا ہے کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی چھوٹی عمر کی شادی نہ ہوتی تو بہت سے فقہی مسائل پر دہ اخفا میں رہ جاتے چنانچہ بعد میں وہ ملتِ اسلامیہ کی استانی بن گئیں اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کے ارشادات وغیرہ کے متعلق امت کو بہت کچھ سکھایا۔پس کسی عورت کا یہ سمجھنا کہ اس کی کوئی پوزیشن یا مقام نہیں ہے۔یہ اس کی نالائقی ہے۔اسلام نے اسے ایک مقام دیا ہے اور بڑا ہی اہم مقام دیا ہے اور بڑا ہی ضروری مقام دیا ہے اور بڑا ہی حسین مقام دیا ہے۔اسے اپنا یہ مقام سمجھنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنے گھر کے ماحول کو ڈھالنا چاہیے تا کہ اس کے نتیجہ میں میاں بیوی اور ان کے بچے اپنے خاندان میں خوشی کی زندگی گزار سکیں۔میں نے کئی ایسے بچے دیکھے ہیں جو اخلاقی لحاظ سے بالکل تباہ ہو گئے۔صرف اس وجہ سے کہ وہ دیکھتے تھے کہ ماں باپ کا آپس میں تعلق نہیں۔ہر وقت لڑتے رہتے ہیں جس کا ان کے بچوں کے اخلاق پر بہت برا اثر پڑا۔اس قسم کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے۔پس خلاصہ یہ نکلا کہ ہماری دنیوی خوشحالی کا انحصار بھی اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے پر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں نکاح کا اعلان کروں گا۔یہ ہمارے دونوں بچے ایک لحاظ سے کم عمر ہی ہیں اللہ تعالیٰ اس رشتے کو بہت بابرکت کرے اور جس رنگ میں اسلام ایک میاں کو دیکھنا چاہتا ہے اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور اس کے بندے عزیز کیپٹن نذیر احمد صاحب کو دیکھیں اور جس رنگ میں اسلام ایک بیوی کو دیکھنا چاہتا ہے اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور اس کے بندے عزیزہ بشری صفد ر صاحبہ کو دیکھیں۔یہ رشتہ ہر دو خاندانوں کے لئے اور ہر دوا فراد کے لئے خیر و برکت کا موجب ہو اور اصل دعا تو ایک ہی ہے کہ دین کے سپاہی بنیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ سے عشق رکھنے والے ہوں اور دنیا کی کوئی پرواہ نہ کرنے والے ہوں اور نہ ان کے دلوں میں کسی کا خوف اور نہ کسی کی بے جا محبت ہو۔اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے