خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 547

خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۷ خطبہ نکاح ۳ رستمبر ۱۹۷۰ء تیزیاں اگر عور تیں دکھا ئیں تو پھر گھر آباد نہیں ہوتے۔اگر چھوٹی عمر میں لڑکی کا نکاح ہو جائے تو وہ ایم اے پاس کی طرح تو نہیں ہوتی ویسے یہ ٹھیک ہے کہ بعض ایسے پروفیشن ہیں جن کے لئے ہمیں لڑکیوں کو پڑھانا پڑتا ہے مثلاً میڈیسن ہے اس میں اگر ہماری لڑکیاں نہیں پڑھیں گی تو ساری عورتیں مجبور ہوں گی مرد ڈاکٹروں سے علاج کروانے کے لئے۔مجبوری کی صورت میں یہ جائز تو ہے لیکن پسندیدہ بہر حال نہیں ہے۔لیکن بہت کی پابندیاں ہم لگاتے ہیں وہ ہمیں لگانی پڑیں گی۔پس مرد کا یہ سمجھنا کہ میں آزاد ہوں جس طرح چاہوں بیوی سے سلوک کروں۔یہ غلط ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اور بیوی کا یہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقام ہی نہیں ہے اور میں یوں ہی ہوں یہ بھی غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے بھی بڑا مقام عطا کیا ہے اور تمہارے لئے لباس جو ہے اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ مرد کی زینت کا منبع اس کی بیوی ہے ورنہ اس کی عزت اور زینت نہیں رہتی۔عورت کو کتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے مگر ساتھ ہی حفاظت کی ذمہ واری بیوی پر ڈالی ہے اب سردی گرمی سے بچنے کے لئے ہم لباس کو استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ دنیا میں بہت ساری پنچ اونچ ایسی ہوتی ہے کہ ایک سمجھدار عظمند عورت جس نے اپنے خاوند کا پیار حاصل کیا ہو دونوں ایک جان ہو گئے ہوں وہ بیوی خاوند کی حفاظت کی ذمہ دار بنتی ہے۔اور بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔اس وقت میں نہ ہی زیادہ بول سکتا ہوں نہ بولنا چاہتا ہوں۔دیر ہو گئی ہے بہر حال اسلام نے اس درخت وجود یا خاندان کے وجود کی ہر دوشاخوں، - ہر دو حصوں کے لئے کچھ ذمہ واریاں بتائی ہیں۔کچھ اختیارات دئے ہیں۔کچھ نصیحتیں کی ہیں۔کچھ آگے بڑھنے کے لئے احکام دیئے ہیں کہ تم دونوں مل کر آگے ترقی کر سکتے ہو۔ایک انگریز ناولسٹ کی طرح اسلام نے یہ نہیں کہا۔وو ‘A man with a woman is lesser a man۔' 66 بلکہ ان کو یہ کہا ہے کہ اگر اچھے خاوند اور بیوی ہوں تو وہ ایک مرد سے زیادہ ہیں کم نہیں ہیں اور دنیا میں بھی یہی ہوتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حالات کے لحاظ سے اور اسلام کی ضرورت کی وجہ سے بہت سی شادیاں کرنی پڑیں اور اب تک عیسائی پادری یہ اعتراض