خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 466

خطبات ناصر جلد دہم ۴۶۶ خطبہ نکاح ۱۴ راگست ۱۹۶۹ء ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔رشتوں سے متعلق بھی اسلام نے بہت سے احکام دئے ہیں اور مرد و عورت یعنی میاں و بیوی ہر دو پر بعض ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور ان کے ایک دوسرے پر بعض حقوق مقرر کئے ہیں۔ہمارے ان نوجوانوں (جن کے نکاحوں کا اعلان اس وقت ہو رہا ہے ) کا یہ فرض ہے کہ وہ نکاح کے وقت سے ہی یہ نیت کر لیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے باہمی تعلقات کو اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ احکام کے مطابق قائم کریں گے تا دنیا ان کے گھروں میں اسلام کا زندہ نمونہ دیکھے۔دنیا کے مرد بھی اسلام کا زندہ نمونہ دیکھیں جہاں تک مرد کا سوال ہے اور دنیا کی عورتیں بھی اسلام کا زندہ نمونہ دیکھیں جہاں تک عورت کا سوال ہے۔پس اے عزیز و! جن کے اس وقت نکاح ہورہے ہیں انہیں ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے گھروں (اینٹ اور پتھر کے گھر نہیں بلکہ وہ جن میں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے والی اور فدائی نسل پیدا ہونی ہے ) کی بنیاد تقویٰ پر رکھو اور دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔اس وقت میں جن دو نکاحوں کا اعلان کروں گا ان میں سے ایک نکاح تو مکرم ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب کی بچی کا ہے جو چک منگلا کے ایک ذہین ، ہونہار بچہ سے قرار پایا ہے۔دونوں خاندانوں میں سوائے احمدیت کے جوڑ کے اور کوئی جوڑ نہیں۔ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کے اس جوڑ کو احمدیت اور اسلام کی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم رکھے اور یہ رشتہ ہر دو خاندانوں کے لئے برکت کا موجب بنائے اور خوشی اور مسرت کا باعث ٹھہرائے۔دوسرا نکاح عزیزہ امتہ الوحید صاحبہ بنت مکرم ملک نواب خان صاحب مرحوم کا ہے جو عزیزم عبدالمجید صاحب جو مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب چیمہ کے بیٹے ہیں قرار پایا ہے۔اس کے بعد حضور نے ایجاب و قبول کرایا اور رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ را گست ۱۹۶۹ ء صفحه ۳)