خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 465

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۱۴ /اگست ۱۹۶۹ء اپنی زندگیوں میں اسلام کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرو خطبہ نکاح فرموده ۱۴ /اگست ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب وعشاء مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔عزیزہ عائشہ نصیر صاحبہ بنت مکرم ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب پروفیسر تعلیم السلام کا لج ربوہ کا نکاح ہمراہ مکرم رائے عنایت اللہ خان صاحب ایم اے پروفیسر پنجاب یو نیورسٹی (اکنامکس ڈیپارٹمنٹ) ابن مکرم رائے غلام محمد خان صاحب منگلا بعوض سے آٹھ ہزار روپے مہر۔۲۔عزیزه امۃ الوحید صاحبہ بنت مکرم ملک نواب خان صاحب مرحوم ربوہ کا نکاح ہمراہ مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب چیمہ ابن مکرم چوہدری عبد الرحیم صاحب چیمہ دار الرحمت شرقی ربوہ بعوض مبلغ پندرہ ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دنیا آج ایک مسلمان سے عمل کا مطالبہ کر رہی ہے۔اکثر مقامات بلکہ ساری دنیا سے ہی یہ اطلاع آتی ہے کہ جب غیر مسلم اسلام کے دلائل سے عاجز آجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم تو بے شک نہایت حسین ہے مگر اس تعلیم پر حسین عمل کرنے والے کہاں ہیں۔اس لئے جماعت احمد یہ کے افراد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسلام کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔اسلام نے ہر شعبہ زندگی کے عملی حقوق قائم کئے ہیں اور ایک مسلمان پر بہت سی