خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 467
خطبات ناصر جلد دہم ۴۶۷ خطبہ نکاح ۲۳ اگست ۱۹۶۹ء انسانی زندگی کے نئے دور کی ابتدا نکاح کے اعلان سے ہوتی ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۳ اگست ۱۹۶۹ء بمقام کراچی حضور انور نے بعد نماز مغرب و عشاء محترم مولوی غلام احمد صاحب فرخ مربی سلسلہ احمدیہ کے صاحبزادہ محترم کیپٹن منیر احمد صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح پانچ ہزار روپے حق مہر پر محترمه منصوره رشید ملک بنت ملک رشید احمد خان صاحب کراچی کے ساتھ قرار پایا ہے۔خطبہ مسنون کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اگر کسی شخص کو دس روپے کی ضرورت ہو اور یہ دس روپے اس کی جیب میں ہوں تو وہ کسی سے مانگنے نہیں جائے گا۔اسی طرح اگر کسی شخص کو ہزار روپے کی ضرورت پیش آجائے اور اتنے ہی روپے اس کے پاس موجود ہوں تو اسے بھی کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔لیکن اگر کسی کوسو، دوسو روپے کی ضرورت پڑ جائے مثلاً وہ خود بیمار ہو جاتا ہے یا بچے بیمار پڑ جاتے ہیں مگر علاج کے لئے پیسے نہیں تو وہ اپنی ضرورت کے پیش نظر اپنے دوستوں کے پاس بھاگا پھرتا ہے۔اور ایک وہ بھی ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا انہیں سب کچھ مانگنا پڑتا ہے اور یہ تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بندے کا اپنا کچھ بھی نہیں۔جس طرح وہ خالی ہاتھ اس دنیا میں جنم لیتا ہے۔اگر کوئی عقلمند غور کرے تو وہ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ دراصل اللہ تعالیٰ کا