خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 420
خطبات ناصر جلد دہم ۴۲۰ خطبہ نکاح ۱۲ را گست ۱۹۶۸ء اس کے واسطے سور کے گوشت کھانے یا نہ کھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اکثریت ان کی شراب پینے والی، سگریٹ پینے والی ، سور کا گوشت کھانے والی ڈانس کرنے والی اور نیم برہنہ پھرنے والیاں ہیں یہ ان کی عادت ہے وہ اس چیز کو بڑا ہی نہیں سمجھتے۔پھر وہ ہمارے ماحول میں آتے ہیں اور وہی عورتیں جو فخر محسوس کرتی ہیں نیم برہنہ ہو کر سڑکوں پر چلنے پر۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کی نظر نہیں اٹھتی۔سر ڈھکے ہوئے رومال باندھے ہوئے۔ابھی وقت نہیں آیا اس ماحول میں کہ ہم اس سے زیادہ پردہ کروائیں لیکن کافی پردہ کرتی ہیں۔برقعہ ہی تو پردہ نہیں ہے قرآن کریم نے کہا ہے سر اور منہ ڈھانکو تو سرڈھانک لیتی ہیں عینک کالی پہن کر باہر نکلتی ہیں آنکھوں کا پردہ ہو گیا آنکھ اس میں نظر نہیں آتی۔نظریں پاؤں سے اٹھتی نہیں ان کی۔کجا اس ماحول میں کہ بے باک نظریں۔تو یہ ہمارے رشید صاحب اصل میں ان کی بات کر رہا ہوں انہیں کا آج دن ہے تو یہ سمجھ رکھتے ہیں کہ جس کو تبلیغ کی ہے اس سے مایوس نہیں ہونا۔کیونکہ مایوس کوئی مومن نہیں ہوا کرتا اس وجہ سے ان کا حق ہے کہ ہم ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو ان کے لئے بھی بہت مبارک کرے اور ان کے بھائی ان کے والد ان کی والدہ دوسرے رشتہ دار بڑے مخلص اور فدائی سارا خاندان ہے اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی خوشیوں کا سامان پیدا کرے۔بچی جو ہے ہماری۔ان کے والد کو میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں دوسرے رشتہ داروں کو بھی جانتا ہوں اور اس گھر کے بچے میں نے دیکھے ہیں میری طبیعت پر یہی اثر ہے کہ گھر میں دین کی باتیں ہوتی ہیں اور احمدیت کی محبت پیدا کی جاتی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بچی بھی ایسی ہی ہوگی۔ہماری بچیوں کو غیروں کی بچیوں سے اپنے ازدواجی تعلقات کو خوش گوار کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ وہ تو بہت کچھ ایک دوسرے کو جان رہے ہوتے ہیں یہ بالکل نہیں جانتے اسی واسطے ہمیں یہ حکم ہے کہ زیادہ نابالغ نہیں لیکن بلوغت کے بعد جلدی شادی کر دینی چاہیے۔ایک دفعہ میں لندن آیا ہوا تھا دو ایک روز کے لئے۔اپنی مسجد میں ٹہل رہا تھا اپنے طالب علمی کے زمانہ میں۔ایک انگریز تھے کہ جرمن ، زیر تبلیغ تھا وہ اس دن وہاں تھا۔غالباً اتوار تھی اس نے