خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 421
خطبات ناصر جلد دہم ۴۲۱ خطبہ نکاح ۱۲ راگست ۱۹۶۸ء اعتراض کے رنگ میں کہا کہ آپ لوگ بہت چھوٹی عمر میں شادیاں کر دیتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہم لوگ تو تیس چالیس سال کی عمر میں کرتے ہیں۔میں نے اس کو اور تو کوئی جواب اس وقت نہیں دیا ہم ٹہل رہے تھے وہاں پر درخت تھے میں اس کو ایک درخت کے پاس لے گیا میں نے کہا اگر پیوند لگانا ہو تو یہ موٹا تنا جس کی عمر دس سال کی ہے یہاں پیوند لگے گا ایک اور دس سال کے موٹے تنے کے ساتھ یا یہ پتلی شاخ جس کی عمر چند مہینے ہے یہاں پیوند کامیاب ہوگا۔کہنے لگا مجھے جواب سمجھ آ گیا ہے اب اور ضرورت نہیں۔تو پیوند لگانے والا مسئلہ ہے۔چاہے آپس میں رشتہ دار ہوں جن کے درمیان رشتہ ہو رہا ہے پھر بھی ایک تو ہر فرد کی طبیعت مختلف ہوتی ہے پھر آپس کے رشتہ داروں کے گھروں کی عادتیں مختلف ہوتی ہیں ہر دو کو کچھ نہ کچھ قربانی ضرور دینی پڑتی ہے کم یا زیادہ۔بات ماحول پر انحصار رکھتی ہے لیکن قربانی دینی پڑتی ہے۔چھوٹی عمر میں لچک ہوتی ہے اپنے آپ کو Adopt کر لیتے ہیں بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں نہ خاوند ساری عمر چھوڑ سکتا ہے اس کی دلچپسی ایسی ہوتی ہے نه بعض دفعہ بیوی چھوڑ سکتی ہے دلچسپی اس کی قائم رہتی ہے۔پھر چھوٹی چھوٹی باتوں میں خاوند بیوی کا خیال رکھ رہا ہوتا ہے بیوی خاوند کا خیال رکھتی ہے۔دونوں طرف سے آپس کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ذرا ذرا چیزوں میں یہ میرا خیال رکھتی ہے تو میں اس کا خیال کیوں نہ رکھوں بیوی کہتی ہے کہ میرا خاوند چھوٹی چھوٹی باتوں میں میرا خیال رکھتا ہے تو میں اس کا خیال کیوں نہ رکھوں۔ایک دوسرے کے لئے وہ قربانی دیتے ہیں۔شروع میں قربانی سمجھ کے کچھ تکلیف برداشت کر رہے ہوتے ہیں پھر ان کی عادت پڑ جاتی ہے پھر وہ ایک ہی جان بن جاتے ہیں دونوں اور اس کے بغیر اگلی نسل کو ہم سنبھال ہی نہیں سکتے۔اگر ماں اور باپ گھر میں لڑ رہے ہوں تو آپ سمجھیں بچوں کے اخلاق خراب ہو گئے۔بچوں کے اخلاق تبھی درست رہ سکتے ہیں کہ گھر کی فضا بڑی محبت اور پیار کی فضا ہو اور ہر دومیاں اور بیوی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے اور ان کے ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو مبارک کرے۔اسلام نے جو ذمہ داریاں خاوند اور بیوی پر ڈالی ہیں ان کو نباہنے والے ہوں۔