خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 405
خطبات ناصر جلد دہم ۴۰۵ خطبہ نکاح ۳۱ مارچ ۱۹۶۸ء اس میں ہمیں متوجہ کیا کہ شیطان کا غلبہ ان لوگوں پر نہیں ہوتا جو خدا کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور مجاہدہ کا حق ادا کرتے ہیں۔اگر تم ایسا کرو گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا تمہارے حق میں قبول ہوگی۔پھر آپ نے فرمایا۔اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں اس میں آپ نے ہمیں متوجہ کیا اس فرمان کی طرف مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر: ۱۱) کہ سب عزتوں کا سر چشمہ خدا ہے۔اگر عزت کی تلاش ہو تو اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔اس شخص کی کیا عزت جسے دس ہیں، تیس چالیس پچاس ساٹھ کی نگاہ میں عزت حاصل ہو لیکن خدا کی نگاہ میں اس کے لئے ذلت اور غضب مقدر ہو۔پس فرمایا کہ خدا تعالیٰ سب عزتوں کا سر چشمہ ہے اور جس سے حقیقی عزت ملتی ہے اس سے تعلق قائم کرو تا تمہیں حقیقی عزت ہو۔پھر فرمایا۔مولی کے یار ہوویں قرآن مجید میں فرمایا وَ اللهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ (الجانية : ۲۰) کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کی خاطر اس کی نواہی سے بچتے ہیں اور گناہ اور معصیت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تو وہ گا خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتے ہیں۔مولی کا یار بنے اور اس کی حفاظت میں ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم خدا کی نگاہ میں متقی بنیں بعض لوگ کچھ لوگوں کی نظر میں متقی ہوتے ہیں لیکن در حقیقت وہ متقی نہیں ہوتے۔اصل متقی وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی ہو۔اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوگی کہ ایک انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی ٹھہرے۔پھر فرمایا۔جاں پر ز نور رکھیو دل پر سرور رکھیو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں توجہ دلاتے ہیں کہ ہمیں اپنے اندر سے ظلمات