خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 406

خطبات ناصر جلد دہم ۴۰۶ خطبہ نکاح ۳۱ مارچ ۱۹۶۸ء دور کر کے نور پیدا کرنا چاہیے اور وہ نور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔فرمایا۔وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّورِ ( النور : ۴۱) کہ حقیقی نور وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔پھر فرمایا۔يَهْدِی بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُلمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (المآئدة: ۱۷) پس ہماری توجہ کو اس طرف پھیرا گیا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہو تو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو اور اس کے لئے یہ طریقہ بتایا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا اور آپ کے نمونہ پر چلے گا اس کو نور دیا جائے گا۔وہ صراط مستقیم جو اسلام نے ہمارے سامنے رکھا ہے چلتا چلا جائے گا۔آخر وہ اس نور کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔یہ چند مثالیں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی۔آپ نے جو دعا بھی فرمائی ہے ہر اس دعا کے مقابلے غور کرنے پر آپ کو ایک ذمہ داری نظر آئے گی جس کی قرآن مجید کی آیات سے تائید ہوتی ہے اور جس کا نبھانا ہمارے لئے ضروری ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہو جانا یا یہ سمجھ لینا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے دعائیں فرمائی ہیں کافی نہیں۔اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ نہ ہوں۔جو ان دعاؤں کے نتیجہ میں ہم پر آتی ہیں۔تو یہ دعا ئیں ہمارے لئے مفید نہیں۔یہ دعا ئیں اسی وقت ہمارے لئے مفید ہوسکتی ہیں جب ہم وہ ذمہ واریاں بھی ادا کریں جو ان دعاؤں کے نتیجہ میں ہم پر پڑتی ہیں۔پس اے دے لوگو! جو جسمانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتے ہو اور اے دے لوگو! جو روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتے ہو۔ان باتوں پر غور کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تا آپ کے گرد وہ لوگ جمع ہوں جو قرآن کریم پر عمل کرنے والے ہوں اور قرآن کریم کے نور سے منور ہوں۔