خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 404
خطبات ناصر جلد دہم ۴۰۴ خطبہ نکاح ۳۱ مارچ ۱۹۶۸ء حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ( ہماری بڑی پھوپھی ) کے پوتے ہیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔اس موقع پر میں اپنے عزیزوں کو خواہ ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جسمانی ہے خواہ روحانی، یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور شکر کا مقام ہے کہ اس نے ایسے اسباب پیدا کئے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق والے بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لئے بڑی دعائیں کی ہیں۔جو آپ کی دو آمین میں ہیں اور دوسری جگہ بھی پائی جاتی ہیں اور جب ہم ان دعاؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ دعا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی وہ ہم پر ایک ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔میں چند مثالیں بیان کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔حق پر نثار ہوویں مولی کے یار ہو یں پھر آپ نے فرمایا۔نہ دیکھیں وہ زمانہ بے کسی کا مصیبت کا، الم کا، بے بسی کا یہ دعا جب آپ نے کی تو ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ تم پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ تم اپنی زندگیاں بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةً أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ حزنون (البقرۃ: ۱۱۳) کے مطابق گزارو۔اگر بے کسی اور بے بسی کا زمانہ تم دیکھنا نہیں چاہتے اور مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کی خواہش ہے۔تو بلی مَنْ أَسْلَم والے گروہ میں داخل ہو جاؤ۔اپنے پر ایک موت وارد کر لو اور اپنی ہر چیز خدا پر قربان کر دو اور خدا تعالیٰ سے نئی زندگی کی خواہش کرو اور نئی زندگی پاؤ۔اگر تم سب کچھ خدا کے لئے قربان کر دو گے اور اپنے پر ایک موت وارد کر لو گے تو بے کسی اور بے بسی کا زمانہ نہ دیکھو گے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا فرمائی۔شیطاں سے دور رکھیو اپنے حضور رکھیو