خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 230
خطبات ناصر جلد دہم ۲۳۰ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء جس کے اوپر یہ آج کے عید کے خطبہ کو میں ختم کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود حضرت مہدی معہودعا الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔خیال کرنا چاہیے کہ کس استقلال سے آنحضرت اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اوّل سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گزرتا تھا بلکہ نبوت کا دعوی کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے۔پھر آپ فرماتے ہیں۔واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جانباز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے۔کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجالائے۔اور ہمیں بھی کہا کہ میرے نقش قدم پر چلو۔دوسری آیت میں اس وقت چھوڑتا ہوں دیر ہو جائے گی اس میں صاف اور واضح یہ بات بتائی گئی ہے کہ جو ماننے والے ہیں ایک تو ہے پکار پکار کے بلایا تمام بنی نوع انسان کو۔ایک ماننے والوں کو کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی وحی پر جس استقلال اور استقامت سے قائم ہوں تمہارا بھی فرض ہے کہ تم بھی اسی استقلال اور استقامت سے اللہ تعالیٰ کی وحی قرآن عظیم کے اوامر و نواہی پر قائم رہو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔