خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 231

خطبات ناصر جلد دہم ۲۳۱ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب ہاتھ اٹھا کے میں دعا نہیں کروں گا۔آپ سب کو، دنیا میں بسنے والے سب کو اللہ تعالیٰ یہ عید مبارک کرے۔جن کی جھولیاں کچھ برکتوں سے بھری ہیں، ان جھولیوں کو اتنا بھر دے کہ ان سے یہ برکتیں سنبھالی نہ جاسکیں اور جو خالی جھولیاں لے کر ادھر اُدھر پھر رہے اور گھوم رہے اور گرداں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق دے کہ ایسے اعمال بجالائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی جھولیوں کو بھی اپنی رحمت اور برکتوں سے بھر دے۔- اللہ تعالیٰ نوع انسانی ہلاکت کے جس گڑھے کی طرف حرکت کر رہی ہے اس ہلاکت سے اس کو بچانے کے سامان پیدا کرے۔انہیں عقل اور فراست اور سمجھ عطا کرے۔اور انسان دکھیا انسانیت کے لئے سکھ اور بشاشت اور خوشحالی کے سامان پیدا کرے۔آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )