خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 226
خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۶ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء میں یگانہ اور احد ہے اس جیسی کوئی ہستی نہیں۔کوئی ہستی ایسی نہیں جو انسان کی دعاؤں کو سننے والی ہو۔وہ سمیع ہے۔انسان کی دعاؤں کو سنتا ہے اور وہ صرف سنتا نہیں جو مانگنے والا ہے بعض دفعہ ناسمجھی سے خدا سے دعا کرنے والا کہتا ہے جو میں مانگتا ہوں وہ مجھے ملنا چاہیے۔اگر اللہ تعالیٰ محض سمیع ہو تو اس کو یہ توقع کرنی چاہیے لیکن وہ بصیر ہے وہ دیکھتا بھی ہے دعامانگنے والا جس چیز کو نہیں دیکھتا وہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے۔دعا مانگنے والا ایک ایسی چیز کو مانگتا ہے جس کے بعض پہلو اسے نقصان دینے والے ہیں۔خدا تعالیٰ سنتا ہے لیکن قبولیت دعا بصیر ہونے کی حیثیت سے ہوتی ہے۔یعنی اس شکل میں قبول نہیں ہوتی اس سے بہتر شکل میں۔جو مانگا گیا ہے اس سے بہتر شکل میں دعا کو قبول کرنے والا ہے۔بے انتہا دولت کا وہ مالک ہے۔آسمانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں اور زمین کی بھی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ہر قسم کی دولت اس کے ہاتھ میں ہے۔ہر قسم کا رزق وہ دیتا ہے۔کبھی فراخی پیدا کرتا ہے۔انعام کا ایک پہلو بھی اور آزمائش کا ایک پہلو بھی۔کہ تم یہ انعام لے کے اس کا استعمال کیسے کرتے ہو۔کبھی تنگی پیدا کرتا ہے صبر کا ایک پہلو کی آزمائش بھی اور خدا تعالیٰ کے ساتھ جو ایک تعلق ہے اس پر استقامت اور استقلال پر بندہ قائم رہتا ہے یا نہیں یہ امتحان بھی۔ہر ایک امر کو وہ خوب جاننے والا ہے۔علیم ہے اس لئے علم کامل کے نتیجہ میں وہ حالات کو بدلتا اور بعض بندے ان بدلے ہوئے حالات میں کچھ ہو جائے دنیا میں خدا تعالیٰ کے دامن کو جب ایک دفعہ ہاتھ میں پکڑ لیا وہ کبھی نہیں چھوڑتے۔پھر فرمایا جو شریعت قرآن کریم کے ذریعہ اتاری گئی، اس کا مرکزی نقطہ یہ ہے اللہ کی اطاعت کو دنیا میں قائم کرو۔اللہ کی اطاعت کو محض اللہ کی اطاعت کو، خدائے واحد و یگانہ کی اطاعت کو دنیا میں قائم کرو۔شرک کے ہر پہلو کو دنیا سے مٹانا اور کامل اطاعت اللہ تعالیٰ کی۔أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ (الشوری: ۱۴) یہ عربی کے لفظ ہیں اس میں۔اور قرآنی وحی کے متعلق یہ تفرقہ نہ کرو پیدا۔کامل اطاعت کا نتیجہ نکالا ہے اس آیت میں قرآن کریم نے یہ کہ تفرقہ نہ کرو۔کہ کبھی ہم قرآنی وحی کی اطاعت کریں گے اور کبھی ہم کسی دوسرے سر چشمہ سے ہدایت لیں گے۔وَلَا تتَفَرَّقُوا فِيهِ (الشورى: ۱۴)۔