خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 225
خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۵ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء پھر فرمایا کہ آخری فیصلہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔یہ ہے ہم سب کا رب۔پہلے ساری صفات بیان کر کے کہ آخری فیصلہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔الْحُكْمُ لِلَّهِ (المؤمن: ۱۳) یہاں الْحُكْمُ لِلهِ نہیں دوسرے الفاظ ہیں۔یہ میں اپنی طرف سے یہاں کہہ رہا ہوں اَلْحُكُمُ لِلهِ۔حکم اسی کا چلے گا۔فیصلہ اسی نے کرنا ہے جب فیصلہ اسی نے کرنا ہے اور اس نے اعلان کیا کہ میں نے تمہاری ربوبیت کا سامان قرآنی وحی میں کر دیا۔تو قرآن کریم کی وحی صرف قرآن کریم کی وحی پر عمل کرنا ہمارے لئے ضروری ہو گیا۔یہ ہے ہم سب کا رب۔جو ان صفات کا مالک۔جس نے ہمارے متعلق فیصلہ کرنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے رب ہونے کے لحاظ سے یعنی اس نے ربوبیت کے جو سامان پیدا کئے ہم نے ان سے فائدہ اٹھایا اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کیا یا ہم نے ان سے منہ پھیر لیا اور اس کے غصہ اور قہر کے مورد ہو گئے۔اس لئے اسی پر تو گل ہونا چاہیے۔فرماتا ہے۔کہہ دے کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکالے گئے۔اس پر میرا تو گل ہے اور اسی کی طرف میری توجہ ہے۔وَالَيْهِ أُنِيبُ (الشوری: ۱۱) پھر فرما یا آسمان اور زمین کی ہرھی کو وہ ایک پیدا کرنے والا ہے۔اس کا سانجھی اور شریک کوئی نہیں۔پھر اس نے اپنی حکمت کا اظہار اس طرح کیا کہ انسان میں سے جو مرد بنائے ان کی جنس سے ان کو سکون پہنچانے کے لئے عورتیں بنادیں۔جب نوع انسانی میں عورت پیدا کی تو اس کے سکون کے لئے مرد پیدا کر دیا۔تو ساتھی تمہاری ہی جنس سے تمہارے ساتھی بنائے اور صرف انسانوں میں اس کا یہ اصول نہیں بلکہ چارپایوں کے بیچ میں جوڑے بنائے ہیں نر و مادہ بنائے ہیں اس واسطے کہ انسان جب روحانی رفعتوں کے حصول کا ارادہ کرے تو اسے یہ بات سمجھ آجائے کہ جب تک وہ اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق نہیں قائم کرے گا اس کی اخلاقی اور روحانی ترقیات ممکن نہیں۔پھر فرمایا لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: ۱۲) اس جیسی کوئی ہستی نہیں۔اپنی ذات وصفات