خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 152
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۲ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء ۱۹۲۶ء میں ایک صاحب نے حج کیا اور پھر حج پر ایک کتاب لکھی۔جس میں وہ لکھتے ہیں ( اور یہ ۱۹۲۶ ء کی بات ہے ) کہ مکہ مکرمہ جو جاز کا ایک بڑا شہر ہے اس میں صرف ایک پوسٹ آفس ہے اور اس ڈاک خانہ کا عملہ ایک پوسٹ ماسٹر اور دو ہر کاروں پر مشتمل ہے یعنی شہر بھر میں دو آدمی ڈاک تقسیم کرنے والے ہیں اور ایک آدمی ڈاک خانہ میں بیٹھا رہتا ہے۔حالانکہ اب ایک بڑے گاؤں میں بھی اس سے زیادہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔پس اس وقت ڈاک اور تار وغیرہ کا یہ حال تھا۔تاہم اس وقت بنی نوع انسان نے وحدت اقوام کی طرف قدم اٹھالیا تھا اور وحدت اقوام کے لئے جن کوششوں کی ضرورت تھی ان کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ رکھ دی گئی تھی اور منصوبے تیار کر لئے گئے تھے لیکن ان کا اجرا خلافت مہدی معہود سے تعلق رکھتا تھا۔اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے عنقریب ایسا وقت آجائے گا کہ آپ لاہور سے بذریعہ ہوائی جہاز اڑیں گے اور ایک گھنٹے کے اندر اندر جدہ پہنچ جائیں گے اور جہاں تک براڈ کاسٹنگ کا تعلق ہے وہ تو چند منٹوں میں ساری دنیا میں خبر پہنچا دیتا ہے۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ وحدت اقوامی کے منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ تمام دنیا ( یعنی دنیا کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تمام ممالک ) اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کو یہ سہولت میسر ہو کہ وہ با ہمی طور پر مذہبی تبادلہ خیالات کرسکیں۔مثلاً مباحثے ہوں یعنی ایک دوسرے پر اپنے اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے بحثیں ہوں ، مناظرے ہوں، کتابیں تصنیف کی جائیں اور ریڈیو پر بخشیں شروع ہو جا ئیں وغیرہ۔اگر چہ یہ سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہوا تاہم اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو جب اس سے زیادہ اثر ورسوخ عطا فرمائے گا تو یہ سلسلہ بحث و تقریر بھی انشاء اللہ شروع ہو جائے گا اور وقت بھی جلد آ جائے گا جب اسلام کے غلبہ کی مہم میں ہر قسم کی دنیوی سہولتوں سے انشاء اللہ فائدہ اٹھایا جائے گا۔غرض جہاں تک اشاعت کتب کا تعلق ہے یعنی کتابوں کی اشاعت کا تعلق ہے وہ تو اتنی کثرت سے ہو رہی ہے کہ دنیا کا کوئی حصہ اس سے محروم نہیں رہا ہے۔یہ کام تو پورا ہو گیا ہے۔۔اب اگر دنیا کا کوئی حصہ محروم ہے تو وہ اس لئے محروم نہیں کہ ذرائع مسدود ہیں بلکہ وہ اس لئے محروم