خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 153
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۳ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء ہے کہ ہم میں ابھی پوری بیداری پیدا نہیں ہوئی یا ہمارے مالی ذرائع محدود ہیں۔تا ہم اس بارے میں بھی پہلے سے زیادہ سہولتیں پیدا ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ زیادہ سہولتیں میسر آتی چلی جائیں گی۔ریڈیو کے اوپر تو اب بھی اسلام کو پھیلایا جاسکتا ہے۔اسی وجہ سے میرا خیال تھا کہ مغربی افریقہ کے ممالک خود پیسے اکٹھے کر کے وہاں ایک براڈ کاسٹنگ سٹیشن قائم کر لیں اور میرا دل یہ چاہتا ہے کہ اس وقت دنیا میں جو سب سے زیادہ طاقتور ریڈیو سٹیشن ہے ، ہمارا یہ ریڈیو اس سے بھی زیادہ طاقتور ہو۔میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ریڈیو سٹیشن روس کا ہے۔وَاللهُ اَعْلَمُ یہ میرا اندازہ ہے کیونکہ کبھی روسی خبریں سنی جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گو یا آدمی سامنے بیٹھا ہوا باتیں کر رہا ہے۔دوسری جگہوں کے ریڈیو اسٹیشن کی آواز اتنی صاف نہیں ہوتی۔جتنی روسی ریڈیو کی ہوتی ہے اور غالباً یہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹیشن ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ چار پانچ سال کے بعد جب ہمیں براڈ کاسٹنگ سٹیشن لگانے کی توفیق ملے تو کوئی اور ملک یا خود روس ہی میں اس سے زیادہ طاقتور براڈ کاسٹنگ سٹیشن لگ جائے۔بہر حال دل یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا اور طاقت ور براڈ کاسٹنگ سٹیشن وہی ہو جہاں سے صبح و شام اللہ اکبر کی آواز میں آ رہی ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جا رہا ہو۔انشاء اللہ یہ وقت بھی جلد آ جائے گا۔غرض براڈ کاسٹنگ کے سامان میسر آگئے اس لئے میں کوشش کرتا رہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کے بارے میں پورا فائدہ اٹھایا جائے مگر دنیا میں چونکہ بڑا تعصب پایا جاتا ہے اور لوگ ( یعنی عیسائی اور دھریہ ) جن کے ہاتھ میں براڈ کاسٹنگ سٹیشن ہیں وہ ہمیں موقع نہیں دیتے۔حالانکہ ہم انہیں پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔لیکن پھر بھی وہ ہمیں وقت نہیں دیتے۔دو تین سال ہوئے مجھے خیال آیا کہ اگر مجھے موقع دیں تو میں کسی عید کے موقع پر تقریر کر دوں۔یعنی اس عید کے موقع پر نہیں بلکہ کسی عید الاضحیہ یا عید الفطر کے موقع پر اور جس میں ساری دنیا کو عید کا پیغام پہنچا دوں اور اس عاجز بندے کی طرف سے عید کا پیغام تو ایک ہی ہے کہ ہر احمدی یہ کوشش کرے کہ اسلام کے اس عالمگیر غلبہ اور اس کی آخری فتح