خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 151
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۱ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء چنانچہ اب امریکہ میں ایک واقعہ رونما ہوتا ہے تو بعض دفعہ ریڈیو کے ذریعہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ہم تک اس کی اطلاع پہنچ جاتی ہے۔مگر کسی زمانہ میں عرب سے سیاح یا مورخ نکلتے تھے۔تو وہ ایک طرح سے اپنے بیوی بچوں سے رخصت ہو کر نکلتے تھے۔کیونکہ انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ واپس آنا ہے یا نہیں۔پتہ نہیں واپس آنے والا حصہ“ تو ہر وقت انسان کے ساتھ لگا رہتا ہے کیونکہ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن چونکہ وہ سالوں باہر کے ملکوں میں پھرتے رہتے تھے اور پیچھے ان کے خاندان والوں یا دوستوں کو کوئی علم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں اور پھر تین یا چار سال یا بعض دفعہ پانچ چھ سال کے بعد مثلاً چین کا سفر کر کے واپس حجاز میں یا مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ یا شام یا عراق میں یا جہاں سے چلے تھے وہاں پہنچ جاتے تھے۔یعنی اپنے مرکز سے نکل کر اردگرد کے علاقوں میں سالہا سال تک پھرتے رہتے تھے اور پھر وہیں واپس آ جاتے تھے۔لیکن مہینوں نہیں بلکہ سالہا سال تک سفر کرتے رہتے تھے۔مگر اب یہ حال ہے کہ آپ کی آواز سے زیادہ تیز رفتار ہوائی جہاز بن گئے ہیں اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اس سے بھی زیادہ تیز رفتار جہاز بنالیں بہر حال اس وقت تک جو عملاً تجربہ ہو چکا ہے وہ بھی ڈیڑھ دو ہزار میل فی گھنٹہ یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ تیز رفتار سے چلنے والے ہوائی جہاز بن گئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوگا کہ لا ہور سے جدہ تک کم و بیش ایک دو گھنٹے کی مسافت ہو گی۔پس سفر کی سہولتیں پیدا ہو گئیں اور پھر ایک جگہ کے واقعات کا دوسری جگہ تار اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعہ علم ہو جانے کی سہولتیں میسر آگئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں تار اور براڈ کاسٹنگ کا انتظام بہت ناقص تھا اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس وحدت قو می جس کا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِے میں اشارہ کیا گیا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ رونما ہوگی ، اس کی بنیاد گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رکھیں گے مگر اس کا اجرا آپ کے خلفاء کریں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مکہ مکرمہ میں نہ تار گھر تھا، نہ ٹیلیفون کا کوئی انتظام تھا اور نہ براڈ کاسٹنگ کا کوئی اسٹیشن قائم تھا۔۱۹۰۸ء میں آپ کا وصال ہوا۔